پہلے ہی ہزاروں خون ہو چکے تھے۔ انہوں نے پسند نہ کیا کہ اور خون ہوں۔ اس لیے معاویہ سے گذارہ لے لیا۔چونکہ حضرت حسنؓ کے اس فعل سے شیعہ پر زد ہوتی ہے اس لیے امام حسنؓ پر پورے راضی نہیں ہوئے۔ ہم تو دونوں کے ثناخواں ہیں۔ اصلی بات یہ ہے کہ ہرشخص کے جدا جدا قویٰ معلوم ہوتے ہیں۔ حضرت امام حسنؓ نے پسند نہ کیا کہ مسلمانوں میں خانہ جنگی بڑھے اور خون ہوں۔ انہوں نے امن پسندی کو مد نظر رکھا اور حضرت امام حسینؓ نے پسند نہ کیا کہ فاسق فاجر کے ہاتھ پر بیعت کروں کیونکہ اس سے دین میں خرابی ہوتی ہے۔ دونو کی نیت نیک تھی۔انما الاعمال بالنیات۔ یہ الگ امر ہے کہ یزید کے ہاتھ سے بھی اسلامی ترقی ہوئی۔ یہ خدا تعالیٰ کافضل ہے۔ وہ چاہے تو فاسق کے ہاتھ سے بھی ترقی ہو جاتی ہے۔ یزید کا بیٹا نیک بخت تھا۔ ہر شخص اپنے قویٰ کے موافق کام کرتا ہے اصل یہی ہے کہ ہر شخص اپنے قویٰ کے موافق کام کرتا ہے قل کل یعمل علی شاکلتہ (بنی اسرائیل : ۸۵) بعض لوگ دنیا داری میں بڑے کامل ہوتے ہیں ۔بعض سادہ ہوتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ دیکھ اکہ لوگ کھجور کو پیوند کر رہے ہیں۔یہ پیوند نر کا مادہ کو ہوتا ہے۔ آپ ؐ نے ان کو منع کیا۔ انہوں نے نہ لگایا۔ اس سال کھجوریں نہ لگیں تو آپؐ نے فرمایا انتم اعلم بامور دنیاکم یعنی تم اپنے دنیوی معاملات کو بہت جانتے ہو۔ انبیاء علیہم السلام باوجود اس کے کہ بڑے قوی الحوصلہ اور صاحب ہمت لوگ ہوتے ہیں۔ لیکن اگر انہیں قلبہ رانی کے لیے ہا اجوے تو انہیں کب توفیق ہو سکتی ہے۔ اس لیے کہ وہ اس غرض کے لیے بنائے ہی نہیں جاتے۔ جس مقصد اور غرض کے لیے وہ آتے ہیں اور اس راہ میں جو تکالیف اور مصائب انہیں اُٹھانے پڑتے ہیں کوئی دوسرا شخص دنیا کا خواہ وہ کیسا ہی بہادر اور تنومند کیوں نہ ہو وہ ان مشکلات کو ہر گز ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔ مگر اﷲ تعالیٰ انبیاء علیہم السلام کو کچھ ایسا دل اور حوصلہ عطا کرتا ہے کہ وہ بڑی جرأت سے اور دلیری کے ساتھ ان کو برداشت کرتے ہیں۔ خود انسان کو دیکھو کہ باوجود یکہ بڑا عقلمند اور عجیب عجیب ایجادیں کرتا ہے مگر بئے کا ساگھو نسلا نہیں بنا سکتا۔ اس لیے کہ اس قسم کے قویؓ اُسے نہیں ملے۔ شہد کی مکھی شہد بناتی ہے۔ انسان کا کیا مقدور ہیکہ اس قسم کا شہر بنا سکے۔ وہی بوٹیاں موجود ہیں۔مگر انسان عاجز ہے۔ہر چیز کو ال تعالیٰ نے جدا جدا طاقت دی ہے۔ اسی طرح ایک طبقہ اناس کا وہ ہے جس کو روحانی قوتیں دی جاتی ہیں۔