۲؍دسمبر ۱۹۰۵ء
ایک رؤیا ء اور ایک الہام
رؤیا دیکھا کہ ایک دیوار پر ایک مرغی ہے۔ وہ کچھ بولتی ہے۔ سب فقرات یاد نہیں رہے۔ مگر آخری فقرہ جو یاد رہا یہ تھا:
ان کنتم مسلمین
(ترجمہ) اگر تم مسلمان ہو۔
اس کے بعد بیداری ہوئی۔ یہ خیال تھا کہ مرغی نے یہ کیا الفاظ بولے ہیں۔ پھر الہام ہوا:
انفقو ا فی سبیل اﷲ ان کنتم مسلمین
(ترجمہ) اﷲ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔ اگر تم مسلمان ہو۔
فرمایاکہ :۔
مرغی کا خطاب اور الہام کا خطاب ہر دو جماعت کی طرف تھے۔ دونوں فقروں میں ہماری جماعت مخاطب ہے۔ چونکہ آجکل روپیہ کی ضرورت ہے۔ لنگر میں بھی خرچ بہت ہے اور عمارت پر بھی بہت خرچ ہو رہا ہے اس واسطے جماعت کو چاہیے کہ اس حکم پر توجہ کریں۔
پرندوں میں انفاق فی سبیل اﷲ کا سبق
فرمایا:۔
مرغی اپین عمل سے دکھاتی ہے کہ کس طرح انفاق فی سبیل اﷲ کرنا چاہیے کیونکہ وہ انسان کی خاطر اپنی ساری جان قربان کرتی ہے اور انسان کے واسطے ذبح کی جاتی ہے۔اسی طرح مرغی نہایت محنت اور مشقت کے ساتھ ہر روز انسان کے واسطے انڈا دیتی ہے۔
ایسا ہی ایک پرند کی مہمان نوازی پر ایک حکایت ہے کہ ایک درخت کے نیچے ایک مسافر کو رات آگئی۔ جنگل کا دیرانہ اور درسردی کا موسم ۔درخت کے اوپر ایک پرند کاآشیانہ تھا۔ نراور مادہ آپس میں گفتگو کرنے لگے کہ یہغریب الوطن آج ہمارا مہمان ہے اور سردی زدہ ہے۔ اس کے واسطے ہم کیا کریں؟ سوچ کر ان میں یہ صلاح قرار پائی کہ ہم اپنا آشیانہ توڑ کر نیچے پھینک دیں اوروہ اس کو جلا کر آگ تاپے؛ چنانچہ انہوں نے کہا کہ یہ بھوکا ہے۔ اس کے واسطے کیا دعوت تیار کی جائے۔اور تو کوئی چیز