مفسّر کہتا ہے کہ مقرّب سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں جن کو مقامِ لدنی حاصل ہے۔ غرض یہ امور تکمیل کے لیے ضروری ہیں جن کو ہر شخص سمجھ نہیں سکتا۔ اُمّت پر حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ کا عظیم احسان آنحضرت ﷺ کی وفات پر ہزاروں آدمی مرتد ہو گئے حالانکہ آپؐ کے زمانہ مین تکمیل شریعت ہو چکی تھی۔ یہانتک اس ارتداد کی نوبت پہنچی کہ صرف دو مسجدیں رہ گئیں جن میں نماز پڑھی جاتی تھی۔ باقیکسی مسجد میں نماز ہی نہیں پڑھی جاتی تھی۔ یہ وہی لوگ تھے جس کو اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے قل لم تؤمنو اولکم قولو ااسلمنا (الحجرات : ۱۵) مگر اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر ؓ کے ذریعہ دوبارہ اسلام کو قائم کیا اور وہ آدم ثانی ہوئے۔ میرے نزدیک آنحصرت ﷺ کے بعد بہت بڑا احسان اس اُمت پر حضرت ابو بکرؓ کا ہے کیونکہ ان کے زمانہ میں چار جھوٹے پیغمبر ہو گئے۔ مسیلمہ کے ساتھ ایک لاکھ آدمی ہو گئے تھے۔ اور ان کا نبی ان کے درمیان سے اُٹھ گیا تھا مگر ایسی مشکلات پر بھی اسلام اپنے مرکز پر قائم ہو گیا۔ حضرت عمر ؓ کو تو بات بنی بنائی ملی تھی۔ پھر وہ اس کو پھیلاتے گئے۔ یہاں تک نواح عرب سے اسلام نکل کر شام و روم تک جا پہنچا اور یہ ممالک مسلمانوں کے قبضہ میں آگئے۔ حضرت ابو بکرؓ والی مصیبت کسی نے نہیں دیکھی تھی نہ حضرت عمرؓ نے نہ حضرت عثمانؓ نے اور نہ حصرت علیؓ نے۔ حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ نے وفات پائی اور میرا باپ خلیفہ ہوا اور لوگ مرتد ہو گئے تو میرے باپ پر اس قدر غم پڑا کہ اگر پہاڑ پر وہ غم پڑتا تو وہ زمین کے برابر ہو جاتا۔ ایسی حالت میں حضرت ابو بکرؓ کا مقابلہ ہم کس سے کریں۔ اصل مشکلات اور مصائب کا زمانہ وہی تھا جس میں اﷲ تعالیٰ نے انہیں کامیاب کیا۔حضرت عمر ؓ کے وقت کوئی فتنہ باقی نہ تھاور حضرت عثمانؓ کو تو میں حضرت سلیمان ؑ سے تشبیہ دیتا ہوں اُن کو بھی عمارات کا بڑا شوق تھا۔ حضرت علیٰ کے وقت میں اندرونی فتنے ضرور تھے۔ ایک طرف معاویہ تھے اور دوسری طرف علیؓ۔اور ان فتنوں کے باعث مسلمانوں کے خون بہے۔ چھ سال کے اندر اسلام کے لیے کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔اسلام کیلیے تو عثمانؓ تک ہی ساری کارروائیاں ختم ہو گئیں۔پھر تو خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اﷲ عنہما حضرت حسنؓ نے میری دانست میں بہت اچھا کام کیا کہ خلافت سے الگ ہو گئے