نزدیک بھی متقی ہوں۔خدا تعالیٰ تو اُن متقیوں کا ذکر کرتا ہے جو اس کے نزدیک تقویٰ اور اخلاص رکھتے ہیں۔جب ان لوگوں نے آنحضرت ﷺ کا دعویٰ سنا ۔لوگوں میں جو اُن کی وجاہت تھی اس میں فرق آتا دیکھ کر رعونت سے انکار کر دیا اور حق کو اختیار کرنا گوارا نہ کیا۔اب دیکھو کہ لوگوں کے نزدیک تو وہ بھی متقی تھے مگر اُن کا نام حقیقی متقی نہیں تھا۔حقیقی متقی وہ شخص ہے کہ جس کی خواہ آبرو جائے۔ہزار ذلت آتی ہو۔جان جانے کا خطرہ ہو، فقرو فاقہ کی نوبت آئی ہو تو وہ محض اﷲ تعالیٰ سے ڈر کر ان سب نقصانوں کو گوارا کرے لیکن حق کو ہرگز نہ چھپاوے۔متقی کے یہ معنی جیسے آج کل کے مولوی عدالتوں میں باین کرتے ہیں ہرگز نہیں ہیں کہ جو شخص زبان سے سب مانتا ہو خواہ اس کا عمل درآمد اس پر ہویا نہ ہو اور وہ جھوٹ بھی بول لیتا ہو، چوری بھی کرتا ہو تو وہ متقی ہے۔تقویٰ کے بھی مراتب ہوتے ہیں اور جبتک کہ یہ کامل نہ ہوں تب تک انسان پورا متقی نہیں ہوتا۔ہر ایک شئے وہی کار آمد ہوتی ہے جس کا پورا وزن لیا جاوے۔اگر ایک شخ: کو بھوک اور پیاس لگی ہے۔تو روٹی کا ایک بھورا اور پانی کا ایک قطرہ لے لینے سے اُسے سیری حاصل نہ ہوگی اور نہ جان کو بچا سکے گا، جبتک پوری خوراک کھانے اور پینے کی اُسے نہ ملے۔یہی حال تقویٰ کا ہے کہ جب تک انسان اسے پورے طور پر ہر ایک پہلو سے اختیار نہیں کرتا۔تب تک وہ متقی نہیں ہوسکتا۔او راگر یہ بات نہیں تو ہم ایک کافر کو بھی متقی کہہ سکتے ہیں کیونکہ کوئی نہ کوئی پہلو تقویٰ کا (یعنی خوبی) اس کے اندر ضرور ہوگی۔اﷲ تعالیٰ نے محض ظلمت تو کسی کو پیدا نہیں کیا۔مگر تقویٰ کی یہ مقدار اگر ایک کافر کے اندر ہو تو اُسے کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتی ۔کافی مقدار ہونی چاہیے جس سے دل روشن ہو۔خدا تعالیٰ راضی ہو اور ہر ایک بدی سے انسان بث جاوے۔بہت سے ایسے مسلمان ہیں کہ جو کہتے ہیں کیا ہم روزہ نہیں رکھتے۔نماز نہیں پڑھتے وغیرہ وغیرہ۔مگر اس باتوں سے وہ متقی نہیں ہوسکتے۔تقویٰ ارو شئے ہے۔جب تک انسان خدا تعالیٰ کو مقدم نہیں رکھتا اور ہر ایک لحاظ کو خواہ برادری کا ہو خواہ قوم کا خواہ دوستوں اور شہر کے رؤسا کا خدا تعالیٰ سے ڈر کر نہیں توڑتا اور خدا تعالیٰ کے لیے ہر ایک ذلت برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتا، تب تک وہ متقی نہیں ہے۔ قرآن شریف میں جو بڑے بڑے وعدے متقیون کے ساھ ہیں وہ سایسے ہیں وہ ایسے متقیون کا ذکر ہے جنہوں نے تقویٰ کو وہاں تک نبھایا جہانتک ان کی طاقت تھی۔بشریت کے قویٰ نے جہانتک ان کا ساتھ دیا برابر تقویٰ پر قائم رہے حتیٰ کہ اُن کی طاقتیں ہار گئیں۔اور پھر خدا تعالیٰ سے انہوں نے اور طاقت طلب کی جیسے کہ ایاک نعبدو ایاک نستعین (الفاتحہ :۵) سے ظاہر ہے ایاک نعبد یعنی اپنی طاقت تک تو ہم نے کام کیا اور کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ ایاک نستعین یعنی آگے چلنے کے