کسی اور کو نہیں ملی۔آپؐ کی آمد کا وہ وقت تھا جس کو اﷲ تعالیٰ نے خود
ظھر الفساد فی البر والبحر ۰الروم : ۴۲)
سے بیان کیا ہے۔ یعنی نہ خشکی میں امن تھا نہ تری میں۔ مراد اس سے یہ ہے کہ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سب بگڑ چکے تھے اور قسم قسم کے فساد اور خرابیاں ان میں پھیلی ہوئی تھیں۔گویا زمانہ کی حالت بالطبع تقاضا کرتی تھی کہ اس وقت ایک زبردست ہادی اورمصلح پیدا ہو۔ ایسی حالت میں اﷲ تعالیٰ نے آپؐ کو مبعوث فرمایا اور پھر آپؐ ایسے وقت دنیا سے رخصت ہوئے جب آپؐ کو یہ آواز آ گئی…
الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (المائدہ : ۴)یہ آواز کسی اور نبی اور رسول کو نہیں آئی۔ کہتے ہیں جب یہ آیت اُتری اور پڑھی گئی تو حضرت ابو بکر ؓ اس آیت کو سن کر رو پڑے۔ ایک صحابی نے کہا کہ اے بڈھے تجھے کیا ہوگیا۔ آج تو خوشی کا دن ہے تو کیوں رو پڑا؟حضرت ابو بکرؓ نے جواب دیا تو نہیں جانتا مجھے اس آیت سے آنحضرت ﷺ کی وفات کی بو آتی ہے۔حصرت ابو بکرؓ کی فراست بڑی تیز تھی۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ جب کام ہو چکا تو پھر یہاں کیا کام؟۔
قاعدہ کی بات ہے کہ جب کوئی بندوبست کا افسر کسی ضلع کا بندوبست کرنے کو بھیجا جاتا ہے وہ اس وقت تک وہاں رہتا ہے جبتک کام ختم نہ ہولے۔ جب کام ختم ہو جاتا ہے تو پھر کسی اور جگہ بھیجا جاتا ہے۔ اسی طرح پر مرسلین کے متعلق بھی یہی سنت ہے۔ آنحضرت ﷺ سے جب یہ امر دریافت کیا گیا تو آپؐ نے فرمایا! ابو بکرؓ سچ کہتا ہے اور پھر یہ بھی فرمایا کہ اگر میں کسی کو دنیا میں دوست رکھتا تو ابو بکر ؓ کو۔
خُلَّت کی حقیقت
یہ جملہ بی قابل تشریح ہے۔ حضرت ابو بکرؓ کو آپؐ دوست تو رکھتے تھے۔ پھر اس کا کیا مطلب؟بات اصل میں یہ ہے کہ خُلَّت اور دوستی تو وہو ہوتی ہے جو رگ وریشہ یں دھنس جائے۔ وہ تو صرف اﷲ تعالیٰ ہی کا خاصہ اور اسی کے لیے مخصوص ہے۔ دوسروں کے ساتھ محض اخوّت اور برادری ہے۔ خُلَّت کا مفہوم ہی یہی ہے کہ وہ اندر دھنس جاوے۔ جیسے یوسف زلیخا کے اندر رچ گیا تھا۔ بس یہی معنے آنحضرت ﷺ کے اس پاک فقرہ کے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کی محبت میں تو کوئی شریک نہیں۔ دنیا میں اگر کسی کو دوست رکھتا تو ابو بکر ؓ کو رکھتا۔
یہ ایسی ہی بات ہے جیسے اﷲ تعالیٰ فڑماتا ہے کہ اگر کسی کو بیٹا بناتا تو ایک مقرب کو بنا لیتا۔ایک