لیا۔اور پھر چھوٹے چھوٹے اور نبی آتے رہے یہانتک کہ مسیح ابن مریم آگیا اور اس سلسلہ میں جو ال تعالیٰ نے موسیٰ ؑسے شروع کیا تھا کوئی فرق نہ آیا۔
پس یہ کبھی نہیں سمجھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ میں کوئی فرق آجاتا ہے۔ یہ ایک دھوکہ لگتا ہے اور بت پرستی تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ اگر یہ خیال کیا جاوے کہ ایک شخص کے وجود کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔ میں تو اﷲ تعالیٰ کے وجود کے سوا کسی اور طرف نظر اُٹھانا بھی پسند نہیں کرتا۔
مولا بس
فرمایا :
میرے ایک چچا صاحب فوت ہو گئے تھے۔ عزصہ ہوا میں نے ایک مرتبہ اُن کو عالم رؤیا میں دیکھ ااور اُن سے اس عالم کے حالات پوچھے کہ کس طرح انسان فوت ہوتا ہے اور کیا ہوتا ہے۔ انہوں کہ ا کہ اس وقت عجیب نظارہ ہوتا ہے۔جب انسان کا آخری وقت قریب آتا ہے تو دو فرشتے جو سفید پوش ہوتے ہیں سامنے آتے ہیں اور کہتے آتے ہیں مولا بس ۔مولا بس۔
[فرمایا :۔ حقیقت میں ایسی حالت میں جب کوئی مفید وجود درمیان سے نکل جاتا ہے تو یہی لفظ ’’مولابس‘‘ موزون ہوتا ہے۔]
اور پھر وہ قریب آکر دونوں اُنگلیواں ناک کے آگے رکھ دیتے ہیں۔ اے روح ! جس راہ سے آئی تھی اسی راہ سے واپس نکل آ۔
فرمایا۔
طبعی امور سے ثابت ہوتا ہے کہ ناک کی راہ سے روح داخل ہوتی ہے اسی راہ سے معلوم ہوا نکلتی ہے۔ توریت سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ نتھنوں کے ذریعہ زندگی کی روح پھونکی گئی۔؎
وہ عالم عجیب اسرار کا عالم ہے جس کو اس زندگی میں انسان پورے طو پر سمجھ بھی نہیں سکتا۔
آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی عظیم خوش قسمتی
فرمایا :
اگر دن تھوڑے بھی ہوں اور اﷲ تعالیٰ کی رضا میں بسر ہوں تو غنیمت ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑجس مُلک میں رہے تھے وہاں کی زندگی صرف ساڑھے تین سال کی ہی رسالت ہے۔ آنحضرت ﷺ کا زمانہ رسالت تئیس (۲۳) سال تھا۔ مگر میں جانتا ہوں کہ جیسے آنحضرت ﷺ کی خوش قسمتی ثابت ہوتی ہے اور کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں۔ امور رسالت میںیہ کامیابی اور سعادت