محبت کرتا ہے اور اسی میں رہنا چاہتا ہے۔ اگر اُس عالم پر پورا یقین ہو جاوے تو اس عالم سے چلے جانے کا کوئی غم اس کو نہ ہو اور ایسی صورت میں یہ عالم تو اسی قدر ہے کہ جیسے مسافر کسی جگہ کو کوچ کرنے کی تیاری کرے تو زاد راہ کا بندوبست کرلیتا ہے۔ اسی قدر یہ عالم ہے کہ اس عالم کے سفر کے لیے زاد راہ کا بندو بست کرے اور نہ اس سے زیادہ شریعت حکم دیتی ہے۔ اگر یہ عالم ہمیشہ کے لیے ہوتا تو آدم سے لے کر آنحصرت تک جس قدر انبیاء و رسل اس دنیا مین گذرے ہیں ان کے ہمیشہ یہاں رہنے کی بہت بڑی ضرورت تھی اور اس کو اﷲ تعالیٰ سے زیادہ کون سمجھ سکتا ہے؟ مگر دیکھ لو اﷲ تعالیٰ نے جبتک ان کے لیے اس عالم میں رہنا پسند کیا وہ یہاں رہے اور آخر اپنا کام کر کے اس دنای سے رخصت ہوئے خواہ دوسروں کے نزدیک ان کی وہ رخصت قبل از وقت ہی سمجھی گئی ہو۔ اوروں کا ذکر چھوڑو کہ بنی اسرائیل میں بھیجے ہوئے رسولوں میں حضرت موسیٰ ؑایک بڑے اولوالعزم رسول تھے اور اﷲ تعالیٰ نے ان سے بڑے بڑ ے وعدے فرمائے۔ منجملہ ان کے ارض مقدس میں داخل ہونے کا وعدہ تھا مگر اس ارض مقدس کے راستہ ہی میں اُن کو موت آگئی اور وہ اس وعدہ کی زمین میں داخل نہ ہو سکے۔ پھر خدا تعالیٰ نے ان کے بعد یشوع بن نون کو برگزیدہ کیا اور وہ اس زمین میں داخل ہوا۔ غرض یہ ایک قسم کے اسرار ہوتے ہیں۔جن کو ہر شخص نہیں سمجھ سکتا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعائیں حضرت عیسیٰ ؑ جورورو کر دعائیں کرتے تھے اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ موت سے ڈرتے تے یا اس زندگی سے پیار کرتے تھے بلکہ ان کو ناکامی کا اندیشہ تھا کہ ایسا نہ ہو میں ناکام دنیا سے اُٹھوں۔ آخر اﷲ تعالیٰ نے ان کی دعائوں کو سنا۔ مگر یہ نہیں کہ وہ موت کا پیالہ اُن سے ٹل گیا۔ اپنے وقت پر انہوں نے پیا اور رخصت ہوئے۔ مامور کی وفات سے خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ میں کوئی فرق نہیں آتا فرمایا :۔ ہم تو اﷲ تعالیٰ کی رضا کو مقدم کرتے ہیں اور ہم یقین کرتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرتا ہے بہتر کرتا ہے۔ یہ مت خیال کرو کہ اﷲتعالیٰ کے کاروبار میں جن کا اس نے ارادہ کیا ہوتا ہے کسی قسم کا فرق آجاتا ہے۔ ایسا تو وہم کرنا بھی سخت گناہ ہے۔ نہیں بلکہ وہ کاروبار جس طرح وہ چاہتا ہے بدستور چلتا ہے اور جس طرح اﷲ تعالیٰ چاہتا ہے اُسے چلاتا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑکا بھی میں نے ذکر کیا ہے کہ وہ راستہ ہی میں فوت ہو گئے۔ قوم چالیس دن تک ماتم کرتی رہی مگر خدا تعالیٰ نیوہی کام یشوع بن نون سے