یہ کہنا کہ وہ آپؐ کو نہیں ملیں غلط ہے۔ کیونکہ اس بات کو تسلیم کر لیا گیا ہے کہ متبعین کی فتوحات اور کامیابیاں بھی دراصل متبوع ہی کی فتوحات ہوتی ہیں۔
مامور کی وفات پر جماعت کا غمگین ہوان فطری امر ہے
’’اس دن سب پر اُداسی چھا جائے گی‘‘۔
اس کے متعلق فرمایا کہ :
یہ بالکل سچ ہے۔ جب اﷲ تعالیٰ کا کوئی مامور دنیا سے اُٹھتا ہے تو ہر چیر پر اُداسی چھا جاتی ہے خصوصاً ان لوگوں پر جو اس کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ انسان کی عادت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ ہر بات کو قبل از وقت سمجھتا ہے۔ اس لیے جب اس کی کوئی محبوب چیز جاتی رہے تو پھر ضرور غمگین ہوتا ہے۔ یہ ایک فطرتی تقاضا ہے۔صحابہؓ کی حالت کا کون اندازہ کر سکتا ہے جو آنحضرت ﷺ کی وفات کے وقت تھی۔ ان کو تو قریباً ایک قسم کا جنون ہو گیا تھا اس غم میں جو آنحضرت ﷺ کی جدائی میں ان پر آیا۔ حضرت عمر ؓ کو تو وہ جوش آیا کہ انہوں نے تلوار ہی نکال لی کہ جو شخص کہے گا کہ آپؐ وفات پا گئے ہیں میں اسے قتل کر دوں گا۔گویا وہ یہ لفظ بھی سننا نہ چاہتے تھے۔ پھر حضرت ابو بکر ؓ نے خطبہ پڑھا اور آیت
ما محمد الا رسول قدخلت من قبلہ الرسل (اٰل عمران : ۱۴۵)
پڑھی تو ان کا جوشفرو ہوا۔ یہ آیت دراصل ایک جنگ میں نازل ہوئی تھی جبکہ شیطان کی طرف سے آنحضرت ﷺ کی شہادت کی آوازدی گئی مگر اس وقت حضرت ابو بکر ؓ نے اس آیت کو پڑھا تو صحابہؓ سمجھتے تھے کہ گویا یہ آیت ابھی اُتری ہے۔
یقینی الوجود عالمِ آخرت
فرمایا :
ایسے امور میں حیرت اور سرگشتگی ایک لازمی امر ہوتا ہے۔ یہ اختیاری بات نہیں کہ نہ ہو۔ میں جانتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ جو قبل از وقت ان امور کو بار بار ظاہر رکتا ہے۔ اس میں یہ سر ہے کہ تا جماعت کی تسلی اور اطمینان کا موجب ہو۔ ہم یہ ایمان رکھتے ہیں کہ دو عالم ہیں جو یقینی الوجود ہیں۔ ایک تو یہی عالم جس میں ہم اب ہیں اور زندگی بسر کر رہے ہیں۔ دوسرا وہ عالم جس میں مرنے کے بعد ہم داخل ہوتے ہیں۔ چونکہ انسان کو ا س کا وسیع علم نہیں ہوتا اس لیے اسے وہمی سمجھتا اور اس سے کراہت کرتا ہے۔ اس کی وجہ بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ اس کی خب رنہیں۔ اور اس عالم میں چونکہ رہتا ہے اور اس کی خب روار اطلاع ہے اس لیے اس سے