(قبل عصر)
مامورین کے اغراض و مقاصد کا انکے متبعین کے ذریعہ پورا ہونا
۳۰ ؍نومبر ۱۹۰۵ء کی صبح کو جناب سیٹھ عبد الرحمٰن صاحب مدراسی واپس وطن کو جانے والے تھے اس لیے حضرت اقدس سیٹھ صاحب کی ملاقات کے واسطے مہمان خانہ جدید میں جہاں سیٹھ صاحب اور دوسرے احباب فروکش تھے، تشریف لائے اور سیٹھ صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا :
رات مجھے الہام ہوا ہے (وہی الہام جو اُوپر درج ہو چکے ہیں سنائے)
الہام سنانے کے بعد فرمایا:
لا نبقی لک من المخزیات ذکرا
سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی رسوا کرنے والا ذکر باقی نہ چھوڑیں گے۔ یہ بڑا مبشر الہام ہییعنی تیرے آنے کی جو علت غائی ہے اس کو ہم پورا کر دیں گے۔ کسی مامور اور مرسل کے لیے رسوا کرنے والا ذکر یہی ہو سکت اہے کہ وہ اپنے مقاصد و اغراض میں ناکامیاب ہو۔ سو اﷲ تعالیٰ نے بشارت دی کہ تیرے آنے کی جو غرض اور مقصد ہے اس کو ہم پور اکر دیں گے۔ مگر یہ سنت اﷲ ہے کہ جس قدر مامور دنیا میں آتے ہیں یہ ضروری نہیں سمجھا جاتا کہ ان کے ہی زمانہ میں پوری تکمیل ہو جاوے۔ بلکہ بہت سے امور ایسے ہوتے ہیں کہ انکے متبعین کے ہاتھوں سے پورے ہوتے ہیں اورانکے ہی ہاتھ پر وہ تکمیل سمجھی جاتی ہے۔ خود آنحضرت ﷺ کے عہد رسالت میں مکہ، مدینہ اور بعض نواح تک اسلام تھا، لیکن حضرت ابو بکر ؓاور حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں اسلام کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا اور بہت سے امور کی تکمیل صحابہؓ کے ہاتھ پر ہوئی جو درحقیقت آنحضرت ﷺ ہی کی کامیابی اور آپ کے دست مبارک پر ہی تکمیل تھی۔ اس کے بع بنوامیہ اور دوسرے سلاطین کے ذریعہ ان ترقیوں میں اور ترقی ہوئی اور محمدو غزنوی نے بھی ان میں حضہ لیا۔ اور یہ سلاطین ہند جو سات سو برس تک حکمران رہے کسی حد تک ان کو بھی حصہ ملا۔ انہوں نے ایسی ایسی جگہ مساجد تعمیر کروائیں جو ہندوئوں کے مرکز تھے۔
غرض یہ سنت اﷲ ہے کہ جو مامور ہو کر آتا ہے۔ ضروری نہیں کہ سب مقاصد اس کے وقت ہی میں مکمل ہوں۔ آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر اور کون ہو سکتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ قیصر و کسریٰ کے خزانوں کی کنجیاں مجھے دی گئی ہیں، لیکن وہ کنبجیاں آپؐ کے بعد حضرت عمرؓ کو دی گئیں۔