مسکل یہ ہے کہ جس کو ذرا بھی استعداد ہو جاوے وہ دنیا کی طرف جھک جاتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ایسے لوگ پیداہوں جیسے مولوی علی صاحب کام کر رہے ہیں۔ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ اب وہ اکیلے ہیں۔کوئی ان کا ہاتھ بٹانے والا یا قائم مقام نظر نہیں آتا۔ میں دیکھتا ہوں کہ آریوں کی یہ حالت ہے کہ ایک طرف تو وہ ذرہ ذرہ کو خدا بنا رہے ہیں اور اس طرح پر اﷲ تعالیٰ کی معرفت سے بے نصیب اور حقوق کے سمجھے سے قاصر ہیں۔ اور حقوق العباد کی طرف سے ایسے اندھے ہیں کہ نیگ جیسے مسئلہ کو مانتے ہیں۔ باوجود ایسا مذہب رکھنے کے پھر ان میں اس کی حمایت کے لیے اس قدر جوش ہے کہ بہت سے تعلی یافتہ اپنی زندگیاں مذہب کی خاطر وقت کر دیتے ہیں۔اور یہاں یہ حال ہے کہ جو مدرسہ سے نکلتا ہے اس کو دنیوی امور کی طرف ہی توجہ ہو جاتی ہے۔ جہانتک ہو سکے یہی آرزو ہے کہ کوئی دینی خدمت ہو جاوے۔ تازا الہامات رات پھر وہی الہام ہوا۔ (۱) بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔ (۲) قل میعاد ربک۔ (۳) اس دن سب پر اُداسی چھا جائے گی۔ (۴) قرب اجلک المقدر۔ولا نبقی لک من المخزیات ذکرا۔ ان الہامات پر غور کر کے میں بھی سمجھتا ہوں کہ وہ زمانہ بہت ہی قریب ہے۔ پہلے بھی یہ الہام ہوا تھا۔ اس وقت اس کے ساتھ ایک رؤیا بھی تھی کہ ایک شخص نے مجھے کنوئیں کی ایک کوری ٹنڈ میں ٹھنڈ اپانی دیا۔ وہ پانی بڑا ہی مصفیٰ اور مقطّر تھا مگر وہ تھوڑا سا تھا۔اس کے ساتھ الہام ہوا تھا۔ آبِ زندگی غرض زندگی کا زمانہ خواہ کتنا ہی لمبا ہو پھر بھی تھوڑا ہی ہے۔