راستبازوہی ہے جس کی شہادت خدا دے مولوی صاحب کے اس ذکر کے بعد سیدا میر علی شاہ صاحب نے جماعت علی کا ذکر کیا کہ وہ ان کی موت کو اپنی پیشگوئی کی بنا پر ظاہر کرتا ہے۔ اس پر فرمایا: موت فوت سے تو کوئی رہ نہیں سکتا۔ انبیاء علیہم السلام پر بھی موت آئی۔ انہیں ٹھٹھا کرنا اور اس قسم کی شیخیاں اچھی نہیں ہوتی ہیں۔اسی طرح شیعہ بھی کہتے ہیں۔ اگر پیشگوئیاں اور خوارق یہی ہوتے ہیں۔ تو پھر یزید کی کرامت کا بھی ان کو قائل ہوان پڑیگا۔ افسوس یہ لوگ نہیں سوچتے کہ راستباز وہی ہے جس کی شہادت خدا تعالیٰ دے۔اور کسی قہر کے وقت امتیازی رنگ اس کے ساتھ ہو۔ حضرت موسیٰ ؑکے وقت فرعونی تباہ ہوئے مگر موسیٰ اور اس کے ساتھ والوں کو اﷲ تعالیٰ نے بچا لیا۔ اس قسم کی باتیں ہوتی رہیں۔ طاعون کا ذکر چل پڑا۔ آپ نے پرانی رؤیا۔ ہاتھی والی بیان کی اور بالآخر فرمایا کہ : میرا الہام تو یہی ہے ان اﷲ لا یغیر ما بقوم حتی یغیر و اما بانفسہم (الرعد : ۱۲) جب تک پوری اور اصلاح نہیں ہوتی۔ خدا تعالیٰ کا یہ عذاب ٹلتا نظر نہی آتا؎ٰ۔ ۲۹؍نومبر ۱۹۰۵ء؁ (قبل ظہر) مدرسہ کے اجرا کی غرض ہماری غرض مدرسہ کے اجرا سے محض یہ ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کیا جاوے۔ مروّجہ تعلیم کو اس لیے ساتھ رکھا ہے کہ یہ علوم خادم دین ہوں۔ ہماری یہ غرض نہیں کہ ایف۔اے یا بی۔اے پاس کر کے دنیا کی تلاش میں مارے مارے پھریں ۔ہمارے پیش نظر تو یہ امر ہے کہ ایسے لوگ خدمت دین کے لیے زندگی بسر کریںدراصل اسی لیے مدرسہ کو ضروری سمجھتا ہوں۔ کہ شاید دینی خدمت کے لیے کام آسکے۔