یہی امر خارق عادت ہے اگر بانجھ سے پیدا ہونے والے یحییٰ کے بعد باپ سے پیدا ہونے والے کا ذکر ہوتا۔تو اس میں خارق عادت کی کیا بات ہوئی؟ اور عیسائی جو ان کے بن باپ ہوین سے خدا بناتے ہیں اس کا دوسری جگہ جواب دیدیا
ان مثل عیسیٰ عند اﷲ کمثل ادم (اآل عمران : ۶۰)
اب اگر بن باپ پیدا ہونے والا خدا ہو سکتا ہے تو پھر جس کا ماں باپ دونو نہ ہوں وہ تو بدرجہ اولیٰ خدا ہو گا مگر ان کو وہ خد انہیں مانتے۔اور ایسا ہی یحییٰ میں بھی خدائی ماننی چاہیے کیونکہ وہ بانجھ سے پیدا ہوئے تھے۔[
غرض اوائل میں اس قسم کی گفتگو ہوتی رہی تھی۔ پھر جب اﷲ نے ان کی معرفت زیادہ کی تو ایک دن کہنے لگے آپ گواہ رہیں آج سے میں نے سب گفتگوئیں ترک کر دیں۔ اس کے بعد موت تک بجز تسلیم اور کچھ نہ ہوگا۔
اور پھر میں نے دیکھ اکہ اس دن کے بعد موت تک واقعی یہی حالت رہی کہ رضا اور تسلیم کے سوا کوئی اور بات تھی ہی نہیں۔میں نے دیکھ اہے کہ جن لوگوں نے ان کے خطبات سنے ہیں وہ یہ بات جانتے ہیں کہ ان میں بجز میرے حالات اور ذکر کے اور کچھ نہ ہوتا تھا بلکہ بعض اوقات میں نے سنا کہ بعض آدمی اس امر کو کسی حدتک پسند نہیں کرتے مگر وہ بجز اس کے اور کچھ کہنا نہ چاہتے تھے۔
اس مقام پر میں؎ٰنے عرض کی کہ حضور مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ وہ تقریر اور کلام میرے نزدیک حرام ہے جس میں حضرت مسیح موعود ؑکی سچائی کا ذکر نہ ہو۔ یہ الفاظ سنکر میں نے دیکھ اکہ حضور کی آنکھیں پُرنم ہو گئی تھیں، لیکن ان لوگوں کا ضبط اور صبر لا نظیر ہوتاہے اس لیے ضبط کا نمونہ دکھلایا مگر چہرہ سرخ ہوگیا تھا اور اس میںخاص قسم کی درخشندگی پائی جاتی تھی۔
پھر اس ذکر کے سلسلہ میں فرمایا کہ :
ان کی بڑی بیوی نے رؤیا دیکھاتھا کہ مولوی صاحب کہتے ہیں کہ میں احمدی ہو گیا ہوں۔ اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ میری محبت میں فنا ہو گئے تھے۔ اچھا۔اﷲ تعالیٰ مغفرت کرے۔ آمین ثم آمین۔