جیسے یہودی کو کہا گیا کہ تورارت کو محّرف مبدّل نہ کرنا۔ یہ بتاتا تھا کہ بعض ان میں سے کریں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ غرض یہ امر شرعی ہے اور اصطلاح شریعت ہے۔
دوسرا امر کونی ہوتا ہے اور یہ احکام اور امر قضا وقدر یک رنگ میں ہوتے ہیں جیسے
قلنا یانارکونی برداوسلما (الانبیاء : ۷۰)
اور وہ پورے طور پر وقوع میں آگیا۔ اور یہ امر جو میرے اس الہام میں ہے یہ بھی اس قسم کا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مسلمانانِ روئے زمین علیٰ دین واحد جمع ہوں اور وہ ہو کر رہیں گے۔ہاں اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان میں کوئی قسم کا بھی اختلاف نہ رہے۔ اختلاف بھی رہے گا مگر وہ ایس اہوگ اجو قابل ذکر اور قابل لحاظ نہیں؎ٰ۔
۲۶؍نومبر ۱۹۰۵ء
(قبل دوپہر)
حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اﷲ عنہ کا ذکر خیر
حضرت مولوی صاحب کے ذکر پر فرمایا :
مولوی صاحب ہر تقریب اور ہر جلسہ پر یاد آجاتے ہیں۔ ان کے سبب لوگوں کو فائدہ ہوتا تھا۔وہ بڑی زبردست تقریر کرنے والے تھے۔میں نے مقابلہ کرکے خوب دیکھا ہے ان کے اندر محبت اور اخلاص کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور بجز اس کے میں سمجھتا ہوں کہ اور کچھ تھا ہی نہیں۔ اور اس حد تک تھا کہ میں دیکھتا ہوںکہ دوسروں میں وہ نہیں۔ میں ان سے بہت عرصہ سے واقف ہوں۔اس وقت بھی میں نے اُن کو دیکھا تھا جب وہ نیچری تھے۔اس وقت بیعت بھی کر لی تھی، لیکن ابھی بعض امور اُن کے دل میںتھے۔ چنانچہ مسیح کے بے پدر ہونے میں مجھ سے گفتگو بھی کیا کرتے تھے اور کئی بار کہا کرتے کہ ان کا بھی فیصلہ کر دو۔ مگر میں انہیں جواب دیا کرتا کہ ہمارا یہی مذہب ہے کہ وہ بن باپ ہوئے۔اس کا زبردست ثبوت یہ ہے کہ یحییٰ اور عیسیٰ کا قصہ ایک ہی جگہ بیان کیا ہے۔ پہلے یحییٰ کا ذکر کیا جو بانجھ سے پیدا ہوئے۔ دوسرا قصہ مسیح کا اس کے بعد بیان فرمایا جو اس سے ترقی پر ہونا چاہیے تھا ارو وہ یہی ہے کہ وہ بن باپ ہوئے اور