تھے۔ان کو حضرت اقدس سے ارادت حاصل نہ تھی اور نہ اپنے والد مرحوم کو صراط مستقیم پر سمجھتے تھے۔چند احباب کی تحریک سے وہ بحث و مباحثہ کی غرض لے کر یہاں آئے تھے۔حضرت اقدس کے روبرو تو ان کی کوئی کلام ہم نے نہ سنی۔حضرت مولوی نورالدین صاحب البتہ کلام کرتے رہے۔جس میں نو وارد مولوی صاحب نے یہ کہا کہ ہمارے نزدیک بہت سے متقی ہیں کہ جنہوں نے مرزا صاحب کو نہین مانا اور چونکہ ہم ان کو متقی اور راستباز تسلیم کرتے ہیں ،اس لیے ہم بھی نہیں مانتے۔حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب نے ا سکا جواب یہ دیا کہ اگر کوئی ایسا شخص ہے کہ جو ضد اور تعصب وغیرہ سے تو پاک ہے اور سچی ارادت سے حق کا طالب ہے اس لیے کسی شخص کو متقی مان کر اس کی تقلید سے وہ حضرت امام علیہ السلام کا منکر ہے تو وہ میرے نزدیک وہ اس وقت تک معذور ہے جبتک کہ اﷲ تعالیٰ اس پر حقیقت کو واضح نہ کردے، کیونکہ مؤاخذہ کے لیے ضروری ہے کہ
قد تبین الرشد من الغی۔ (البقرہ : ۲۵۷)
ہو۔اور خد اتعالیٰ فرماتا ہے۔
لیھلک من ھلک عن بینۃ ویحیی من حی عن بینۃ (الانفال : ۴۳)
جو ہلاک ہو وہ بھی بین آیات دیکھ کر ہلاک ہو اور جو زندہ ہو وہ بھی بین آیات دیکھ کر زندہ ہو۔
نو وارد مولوی صاحب نے چاہا کہ اس کی تصدیق حضرت مرزا صاحب سے کرائی جاوے،اس لیے جناب حکیم صاحب نے بوقتِ ظہر اس مسئلہ کو حضرت امام علیہ السلام کی خدمت بابرکت میں عرض کیا جس پر آپؐ نے فرمایا کہ :
اس قسم کا سوال حضرت موسیٰ ؑسے ہوا تھا تو انہوں نے جواب دیا
علمہا عندربی (طہ : ۵۳)
ایسے ہی ہم بھی کہتے ہیں کہ اُن کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے۔وہ جیسے جیسے سمجھے گا ویسا معاملہ اس سے کرے گا۔ہاں کوئی آدمی کسی کو متقی کیونکر یقین کر سکتا ہے۔اﷲ تعالیٰ تو فرماتا ہے۔ لا تزکو اانفسکم (النجم :۳۳)
اور فرماتا ہے۔ھواعلم بمن اتقی (النجم :۳۳)
اور فرماتا ہے اﷲ تعالیٰ ہیعلیم بذات الصدور (مائدہ : ۸)
ہے۔ہاں مامور من اﷲ کے متقی ہونے اور نہ ہونے کے نشانات بیّن ہوتے ہیںنہ اوروں کے۔
بعد نماز مغرب
مغرب کی نماز کے بعد جب حضرت امام ؑ شہ نشین پر جلوہ افروز ہوئے تو سیّد احمد شاہ صاحب سندھی نے آپ سے نیاز حاصل کی اور پوچھا کہ متقی کسے کہہ سکتے ہیں۔فرمایا :
آنحضرت ﷺ جب مبعوث ہوئے اور آپؐ نے دعویٰ کیا تو اس وقت بھی لوگوں کی نظرون میں بہت سے یہدوی عالم متقی اور پرہیز گار مشہور تھے،لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ خدا تعالیٰ کے