الیاس کے دوبارہ آنے کا سوال ملاکی نبی کی اس پیشگوئی کے موافق کیا گیا مگر حضرت مسیح نے فیصلہ کیا کہ وہ آنے والا یوحنا کے رنگ میں آچکا۔
اب یہ فیصلہ حضرت عیسیٰ ہی کی عدالت سے ہو چکا ہے کہ دوبارہ آنے والے سے کیا مراد ہوتی ہے۔ وہاں یحییٰ کا نام مثیل الیاس نہیں رکھا بلکہ انہیں ہی ایلیا قرار دیا گیا۔اب یہ قیاس بھی میرے ساتھ ہے۔ میں تو نظیر پیش کرتا ہوں مگر میرے منکر کوئی نظیر پیش نہیں کرتے۔ بعض لوگ اس مقام پر عاجز آجاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ کتابیں محرف مبدّل ہیں۔ مگر افسوس ہے یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ آنحضرت ﷺ اور صحابہؓ اس سے سند لیتے رہے اور اکثر اکابر نے تحریفِ معنوی مراد لی ہے۔ بخاری نے بھی یہی کہا ہے۔ علاوہ اس کے یہودیوں اور عیسائیوں کی جانی دشمنی ہے۔ کتابیں جدا جدا ہیں۔ وہ اب تک مانتے ہیں کہ الیاس دوبارہ آئے گا۔ اگر یہ سوال نہ ہوتا تو حضرت مسیح کووہ مان نہ لیتے؟ ایک فاضل یہودی کی کتاب میرے پاس ہے وہ بڑے زور سے لکھتا ہے اور اپیل کرتا ہے کہ اگر مجھ سے یہ سوال ہوگا تو میں ملاکی نبی کی کتاب سامنے رکھ دوں گا کہ اس میں الیاس کے دوبارہ آنے کا وعدا کیا گیا تھا۔
اب غور کرو جبکہ باوجود ان عذرات کے لاکھوں یہودی جہنمی ہوئے اور سؤرن بندر بنے تو کیا میرے مقابلہ میں یہ عذر صحیح ہوگ اکہ وہاں مسیح ابن مریم کا ذکر ہے۔ یہودی تو معذور ہو سکتے تھے، ان میں نظیر نہ تھی مگر اب تو کوئی عذر باقی نہیں۔ مسیح ؑ کی موت قرآن شریف سے ثابت ہے اور آنحضرت ﷺ کی رؤیت اس کی تصدیق کرتی ہے اور پھر قرآن شریف اور حدیث میں منکم آیا ہے۔پھر خدا تعالیٰ نے مجھے خالی ہاتھ نہیں بھیجا۔ہزاروں لاکھوں نشان میری تصدیق میں ظاہر ہوئے۔ اور اب بھی اگر کوئی چالیس دن میرے پاس رہے تو وہ نشان دیکھ لے گا ۔لیکھرام کا نشان عظیم الشان نشان ہے۔ احمق کہتے ہیں کہ میں نے قتل کرادیا ۔اگر یہ اعتراض صحیح ہے تو پھر ایسے نشانات کا امان ہی اُٹھ جائے گا۔ کل کو کہہ دیا جائے گا کہ خسرو پرویز کو معاذ اﷲ آنحضرت ﷺ نے قتل کرادیا ہوگا۔ایسے اعتراض حق بین اور حق شناس لوگوں کا کام نہیں ہے۔
میں آخر میں پھ رکہتا ہوں کہ میرے نشانات تھوڑے نہیں۔ ایک لاکھ سے زیادہ انسان میرے نشانوں پر گواہ ہیں اور زندہ ہیں۔ میرے انکار میں جلدی نہ کرو ورنہ مرنے کے بعد کیا جواب دوگے؟ یقینا یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ سرپر ہے اروروہ صادق کو صادق ٹھہراتا اور کاذب کو کاذب؎ٰ۔