میری تائید کرتا ہے۔نشانات اور تائیداتِ الٰہیہ میری مویّد ہیں۔ ضرورت وقت میرا صادق ہونا ظاہر کرتی ہے۔ لیکن قیاس کے ذریعہ سے بھی حجت پوری ہو سکتی ہے۔ اس لیے دیکھنا چاہیے کہ قیاس کیا کہتا ہے؟ انسان کبھی کسی ایسی چیز کو ماننے کو تیار نہیں ہو سکتا جو اپنی نظیر نہ رکھتی ہو۔ مثلاً اگر ایک شخص آکر کہے کہ تمہارے بچے کو ہوا اڑا کر آسمان پر لے گئی ہے یا بچہ کتّا بن کر بھاگ گیا ہے تو کیا تم اس کی بات کو بلا وجہ معقول اور بلا تحقیق مان لو گے؟ کبھی نہیں، اس لیے قرآن مجید نے فرمایا ہے۔
ھاسئلو ااھل الذکر ان کنتم لا تعلمون (الانبیاء : ۸)
اب مسیح ؑکی وفات کے مسئلہ پر اور اُن کے آسمان پر اڑ جانے کے متعلق غور کرو۔ قطع نظران دلائل کے جو ان کی وفات کے متعلق ہیں۔یہ پکی بات ہے کہ کفار نے آنحصرت ﷺ سے آسمان پر چڑھ جانے کا معجزہ مانگا۔اب آنحصرت ﷺ جوہر طرح کامل اور افضل تھے ان کو چاہیے تھا کہ وہ آسمان پر چڑھ جاتے مگر انہوں نے اﷲ تعالیٰ کی وحی سے جواب دیا۔
قل سبحان ربی ھل کنت الا بشرا رسولا (بنی اسرائیل : ۹۴)
اس کا مفہوم یہ ہے کہ کہدو اﷲ تعالیٰ اس امر سے پاک ہے کہ وہ خلاف وعدہ کرے جبکہ اس نے بشر کے لیے آسمان پر مع جسم کے جانا حرام کر دیا ہے اگر میں جائوں تو تھوٹا ٹھہروں گا۔
اب اگر تمہارا یہ عقیدہ صحیح ہے کہ مسیح آسمان پر چلا گیا ہے او ر کوئی بالمقابل پادری یہ آیت پیش کر کے آنحضرت ﷺ پر اعتراض کرے تو تم اس کا کیا جواب دے سکتے ہو۔
پس ایسی باتوں کے ماننے سے کیا فائدہ جن کا کوئی اصل قرآن مجید میں موجود نہیں۔ اس طرح پر تم اسلام کو اور آنحضرت ﷺ کو بدنام کرنے والے ٹھہروگے۔ پھر پہلی کتابوں میں بھی تو کئی نظیر موجود نہیں اور ان کتابوں سے اجتہاد کرنا حرام نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ نسبت اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔
شھد شاھد من بنی اسرائیل (الاحقاف : ۱۱)
اور پھر فرمایا
کفیٰ باﷲ شھیدا بینی و بینکم ومن عندہ علم الکتاب (الرعد : ۴۴)
اور ایسا ہی فرمایا
یعرفونہ کما یعرفون ابناء ھم (البقرہ : ۱۴۷)
جن آنحضرت ﷺ کی نبوت کے ثبوت کے لیے ان کو پیش کرتا ہے تو ہمارا ان سے اجتہاد کرنا کیوں حرام ہو گیا؟
اب انہیں کتابوں میں ملاکی نبی کی ایک کتاب ہے جو بائیبل میں موجود ہے۔ اس میں مسیح سے پہلے ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کا وعدہ کیا گیا ۔آخر جب مسیح ابنِ مریم آئے جو حضرت مسیح سے