کشجرۃ طیبۃ اصلھا ثابت وفرعھا فی السماء تؤتی اکلھا کل حین باذن ربھا (ابراہیم : ۲۵،۲۶) یعنی کیا تُو نے نہیں دیکھا کہ کیونکر بیان کی اﷲ نے مثال یعنی مثال دین کامل کی کہ وہ بات پاکیزہ درخت پاکیزہ کی مانند ہے جس کے جڑھ ثابت ہواور جس کی شاخیں آسمان میں ہوں اور وہ رہ وقت اپنا پھل اپنے پروردگار کے حکم سے دیتا ہے۔ اصلھا ثابت سے یہ مراد ہے کہ اصول ایمانیہ اس کے ثابت اور محقق ہوں اور یقین کامل کے درجہ تک پہنچے ہوئے ہوں اور وہ ہر وقت اپنا پھل دیتا رہے۔ کسی وقت خشک درخت کی طرش نہ ہو۔مگر بتائو کہ کیا اب یہ حالت ہے؟ بہت سے لوگ کہہ تو دیتے ہیں کہ ضرورت ہی کیا ہے؟ اس بیمار کی کیسی نادانی ہے جو یہ کہے کہ طبیب کی حاجب ہی کیا ہے؟ وہ اگر طبیب سے مستغنی ہے اور اس کی ضرورت نہیں سمجھتا تو اس کا نتیجہ اس کی ہلاکت کے سوا ارو کیا ہوگا؟ اس وقت مسلمان اسلمنا میں تو بے شک داخل ہیں مگر اٰمنا کی ذیل میں نہیں اور یہ اس وقت ہوت اہے جب ایک نور ساتھ ہو۔ غرض یہ وہ باتیں ہیں جن کے لیے میں بھیجا گیا ہوں اس لیے میرے معاملہ میں تکذیب کے لیے جلدی نہ کرو بلکہ خدا تعالیٰ سے ڈرو اور توبہ کرو کیونکہ توبہ کرنے والے کی عقل تیز ہوتی ہے۔ طاعون کا نشنا بہت خطرناک نشان ہے اور خدا تعالی ٰنے اس کے متعلق مجھ پر جو کلام نازل کیا ہیوہ یہ ہے ان اﷲ لا یغیر ما بقوم حتی یغیر واما بانفسہم (ارعد : ۱۲) یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور اس پر لعنت ہے جو خدا تعالیٰ پر افترا کرے۔ خد اتعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے ارادے کی اس وقت تبدیلی ہوگی جب دلوں کی تبدیلی ہوگی۔ پس خدا تعالیٰ سے ڈرو اور اس کے قہر سے خوف کھائو۔ کوئی کسی کا ذمہ دار نہیں ہوسکتا۔ معمولی مقمدہ کسی پر ہو تو اکثر لوگ وفا نہیں کرسکتے پھر آخرت میں کیا بھروسہ رکھتے ہو۔ جس کی نسبت فرمایاص یوم یفر المرع من اخیہ (عبس : ۳۵) مخالفوں کا تو یہ فرض تھا کہ وہ حسن ظنی سے کام لیتے اور لا تقف ما لیس لک بہ علم (بنی اسرائیل ص ۳۷) پر عمل کرتے مگر انہوں نے جلد بازی سے کام لیا۔ یاد رکھو، پہلی قومیں اسی طرح ہلاک ہوئیں۔ عقلمند وہ ہے جو مخالفت کر کے بھی جب اسے معلوم ہوکہ وہ غلطی پر تھا، اُسے چھوڑ دے۔ مگر یہ بات تب نصیب ہوتی ہے کہ خداترسی ہو۔ دراصل مردوں کا کام یہی ہے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کریں۔وہی پہلوان ہے اور اسی کو خداتعالیٰ پسند کرتا ہے۔ قیاس کی حجت ان ساری باتوں کے علاوہ میں اب قیاس کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر چہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ میرے ساتھ ہیں۔ اجماعِ صحابہؓ بھی