خدا تعالیٰ نے مجھے ہتھیاروں کے ساتھ بھیجا ہے۔ جو شخص اس وقت یہ خیال کر یوہ اسلام کا نادان دوست ہوگا۔ مذہب کی غرض دلوں کو فتح کرنا ہوتی ہے اور یہ غرض تلوار سے حاصل نہیںہوتی۔آنحضرت ﷺ نے جو تلوار اُٹھائی، میں بہت مرتبہ ظاہر کر چکا ہ٭ں کہ وہ تلوار محض حفاظت خود اختیاری اور دفاع کے طو رپر تھی اور وہ بھی اس وقت جبکہ مخالفین اور منکرین کے مظالم حد سے گذر گئے اور بیکس مسلمانوں کے خون سے زمین سرخ ہو چکی۔ غرض میرے آنے کی غرض تو یہ ہے کہ اسلام کاغلبہ دوسرے ادیان پر ہو۔ دوسرا کام یہ ہیکہ جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نماز پڑھتے ہیں اور یہ کرتے ہیں اور وہ کرتے ہیں۔ یہ صرف زبانوں پر حساب ہے۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ وہ کیفیت انسان کے اندر پیدا ہو جاوے جو اسلام کا مغز اور اصل ہے۔ میں تو یہ جانتا ہوں کہ کوئی شخص مومن اور مسلمان نہیں بن سکتا جبتک ابو بکر، عمر، عثمان،علی ؓ اجمعین کا سارنگ پیدا نہ ہو۔ وہ دنیا سے محبت نہ کرے تھے۔ بلکہ اُنہوں نے اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کی ہوئی تھیں۔ اب جو کچھ ہے وہ دنیا ہی کے لیے ہے اور اس قدر استغراق دنای میں ہو رہا ہے کہ خد اتعالیٰ کے لیے کوئی خانہ خالی نہیں رہنے دیا۔تجارت ہے تو دنیا کیلئے عمارت ہے تو دنیا کیلئے بلکہ نماز روزہ اگر ہے تو وہ بھی دنیا کیلئے۔ دنیاداروں کے قرب کے لیے تو کچھ کیا جاتا ہے مگر دین کا پاس ذرہ بھی نہیں۔ اب ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ کیا اسلام کے اعتراف اور قبولیت کا اتنا ہی منشا تھا جو سمجھ لیا گیا ہے؟ یا وہ بلند غرض ہے۔ میں تو یہ جانت اہوں کہ مومن پاک کیا جاتا ہے اور اس میں فرشتوں کا رنگ ہو جاتا ہے۔جیسے جیسے اﷲ تعالیٰ کا قرب بڑھتا جاتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا کلام سنتا اور اس سے تسلی پات اہے۔ اب تم میں سے ہرا یک اپنے انے دل میں سوچ لے کہ کیا یہ مقام اُسے حاصل ہے؟ میں سچ کہتا ہوں کہ تم صرف پوست اور چھلکے پر قانع ہو گئے ہو حالانکہ یہ کچھ چیز نہیںہے۔ خدا تعالیٰ مغز چاہتا ہے۔پس جیسے مریا یہ کام ہے کہ ان حملوں کو روکا جاوے جو بیرونی طور پر اسلام پر ہوتے ہیں ویس یہی مسلمانوں میں اسلام کی حقیقت اور روح پیدا کی جاوے۔ میں چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں میں جو خدا تعالیٰ کی بجائے دنیا کے بت کو عظمت دی گئی ہے اس کی امانی اور امیدوں کو رکھا گیا ہے۔ مقدمات، صلح جو کچھ ہے وہ دنیا کے لیے ہے۔ اس بُت کو پاش پاش کیا جاوے اور اﷲ تعالیٰ کی عظمت اور جبروت ان کے دلوں میں قائم ہو اور ایمان کا شجر تازہ بہ تازہ پھل دے۔ اس وقت درخت کی صورت ہے مگر اصل درخت نہیں کیونکہ اصل درخت کے لیے تو فرمایا : الم ترکیف ضرب اﷲ مثلا کلمۃ طیبۃ