مصیبت می مخالفین نے ڈالا، میں اس میں سے صحیح سلامت او ر بامراد نکالا۔ پھر کوئی قسم کھا کر بتادے کہ جھوٹوں کے ساتھ یہی معاملہ ہوا کرتا ہے؟
مجھے افسوس سے کہتا پڑتا ہیکہ انمخالف الرائے علماء کو کیا ہوگای۔ وہ غور سے کیوں قرآنشریف اور احادیث کو نہیں پڑھتے۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ جس قدر اکابر اُمت کے گذرے ہیں وہ سب کے سب مسیح موعود کی آمد چودھویں صدی میں بتاتے رہے ہیں اور تمام اہل کشوف کے کشف یہاں آکر ٹھہر جاتے ہیں ۔حججالکرامہ میں صاف لکھا ہے کہ چودھویں صدی سے آگے نہیں جائے گا۔ یہی لوگ منبروں پر چڑھ چڑھ کر بیان کیا کرتے تھے کہ تیرھویں صدی سے تو جانروں نے بھی پناہ مانگی ہے اور چودھویں صدی مبارک ہوگی مگر یہ کیا ہوا کہ وہ چودھویں صدی جس پر ایک موعود امام آنے والا تھا۔ اس مین بجائے صادق کے کاذب آگیا۔ اور اس کی تائید میں ہازروں لاکھوں نشان بھی ظاہر ہو گئے وا رخدا تعالیٰ نے ہرمیدان اور مقابلہ میں نصرت بھی اسی کی کی۔ان باتوں کا ذڑا سوچ کر جواب دو۔ یونہی منہ سے ایک بات نکال دینا آسان ہے مگر خدا تعالیٰ کے خوف سے بات نکالنا مشکل ہے۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ خدا تعالیٰ ایک مفتری اور کذاب انسان کو اتنی لمبی مہلت نہیں دیتا کہ وہ آنحضرت ﷺسے بھی بڑھ جاوے۔ میری عمر سٹرسٹھ (۶۷) سال کی ہے اور میری بعثت کا زمانہ تیئس (۲۳) سال سے بڑھ گیا ہے۔ اگر میں ایسا ہی مفتری اور کذاب تھا تو اﷲتعالیٰ اس معاملہ کو اتنا لمبا نہ ہونے دیتا۔ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ تمہارے آنے سے کیا فائدہ ہوا ہے؟
مسیح موعود کے آنے کی غرض
یاد رکھو کہ میرے آنے کی دو غرضیں ہیں۔ ایک یہ کہ جو غلبہ اس وقت اسلام پر دوسرے مذاہب کا ہوا ہے گویا وہ اسلام کو کھاتے جاتے ہیںاور اسلام نہایت کمزور اور یتیم بچے کی طرح ہوگ یا ہے۔ پس اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے تا میں ادیان باطلہ کے حملوں سے اسلام کو بچائوں اور اسلام کے برزور دلائل اور صداقوتں کے ثبوت پیش کروں اور وہ ثبوت علاوہ علمی دلائل کے انوار اور برکات سماوی ہیں جو ہمیشہ سے اسلام کی تائید میں ظاہر ہوتے رہے ہیں۔ا س وکت اگر تم پادریوں کی رپورٹیں پڑھو تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ اسلام کی مخالفت کے لیے کیا سامان کر رہے ہیں اور ان کا ایک ایک پرچہ کتنی تعداد میںشائع ہوتاہے۔ ایسی حالت میں ضروری تھا کہ اسلام کا بول بالا کیا جاتا۔پس اس غرض کے لیی مجھے خدا تعالیٰ نے بھیجا ہے اور میں یقینا کہتا ہ٭ں کہ اسلام کا غلبہ ہو کر رہے گا ارو اس کے آثار ظاہر ہو چکے ہیں۔ ہاں یہ سچی بات ہیکہ اس غلبہ کے لیے کسی تلوار اور بندوق کی حاجب نہیں اور