ہے کہ اعتراض کرنے والے اپنے لڑکوں کا نام تو موسیٰ، عیسیٰ،دائود، احمد،ابراہیم، اسماعیل رکھ لینے کے مجاز ہوں۔اور اگراﷲ تعالیٰ کسی کا نام عیسیٰ رکھ دے تو اس پر اعتراض ۔
تائیداتِ سماوی اور نشانات
غور طلب بات تو اس مقام پر یہ تھی کہ آیا آنے والا اپنے ساتھ نشانات رکھتا ہے یا نہیں؟ اگر وہ ان نشانات کو پاتے تو انکا رکے لیے جرأت نہ کرتے، مگر انہوں نے نشانات اور تائیدات کی تو پروا نہ کی اور دعویٰ سنتے ہی کہہ دیا انت کافر۔
یہ قاعدہ کی بات ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور خدا تعالیٰ کے مامورین کی شناخت کا ذریعہ اُن کے معجزات اور نشانات ہوتے ہیں۔ جیسا کہ گورنمنٹ کی طرف سے کوئی شخص اگر حاکم مقرر کیا جاوے تو اس کو نشان دیا جاتا ہے۔ اسی طرح پر خدا تعالیٰ کے مامورین کی شناخت کے لیے بھی نشانات ہوتے ہیں اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے میری تائید میں نہ ایک نہ دو نہ دو سو بلکہ لاکھوں نشانات ظاہر کئے اور وہ نشانات ایسے نہیں ہیں کہ کوئی انہیں جانتا نہیں۔ بلکہ لاکھوں اُن کے گواہ ہیں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ اس جلسہ میں بھی صدہا اّن کے گواہ موجود ہوں گے۔ آسمان سے میرے لیے نشان ظاہر ہوئے ہیں،زمین سے بھی ظاہر ہوئے۔
وہ نشانات جو میرے دعویٰ کے ساتھ مخصوص تھے جن کی قبل از وقت اور نبیوں اور آنحضرت ﷺ کے ذریعہ خبر دی گئی تھی، وہ بھی پورے ہو گئے مثلاً ان میں سے ایک کسوف خسوف کا ہی نشان ہے تو تم سب نے دیکھا۔یہ صحیح حدیث میں خبر دی گئی تھی کہ مہدی اور مسیح کے وقت میں رمضان کے مہینے میں سورج اور چاند گرہن ہوگا۔ اب بتائو کہ کیا یہ نشان پورا ہوا ہے یا نہیں؟کوئی ہے جو یہ کہے کہ اس نے یہ نشان نہیں دیکھا؟ اور ایسا ہی یہ بھی خبر دی گئی تھی کہ اس زمانہ میں طاعون پھیلے گی۔ یہانتک شدید ہوگی کہ دس میں سے سات مر جاویںگ ے۔ اب بتائو کہ کیا طاعون کا نشنا ظاہر ہوا یا نہیں؟پھر یہ بھی لکھا تھا کہ اس وقت ایک نئی سواری ظاہر ہوگی جس سے اونٹ بیکار ہو جائیں گے۔ کیا ریل کے اجراء سے یہ نشان پورا نہیں ہوا؟ میں کہانتک شمار کروں۔یہ بہت بڑا سلسلہ نشانات کا ہے۔ اب غور کرو کہ میںت و دعویٰ کرنے والا دجال اور کاذب قرار دیا گیا ۔پھر یہ کیا غضب ہوا کہ مجھ کاذب کے لیی ہی یہ سارے نشان پورے ہو گئے؟ اور پھر اگر کوئی آنے والا اور ہے تو اس کو کیا ملے گا؟ کچھ تو انصاف کرو اور خدا تعالیٰ سیڈرو۔ کیا خدا تعالیٰ کسی جھوٹے کی بھی ایسی تائید کیا کرتا ہے؟ پھر عجیب بات ہیکہ جو میرے مقابلہ پر آیا وہ ناکام اور نامراد رہا اور مجھے جس آفت اور