کریں اور اﷲ تعالیٰ کا شکر کریں کہ وقت پر ان کی دستگیری ہوئی اور خد اتعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اس مصیبت کے وقت اُن کی نصرت فرمائی۔ لیکن اگر وہ خد اتعالیٰ کی اس نعمت کی قدر نہ کریں گے تو خد اتعالیٰ ان کی کچھ پروا نہ کرے گا۔وہ اپنا کام کر کے رہے گا، مگر اُن پر افسوس ہوگا۔ جو موعود آنے والا تھا وہ میں ہوں میں بڑے زور سے اور پورے یقین اور بصیرت سے کہتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ دوسرے مذاہب کو مٹٰ دے اور اسلام کو غلبہ اور قوت دے۔ اب کوئی ہاتھ اور طاقت نہیں جو خدا تعالیٰ کے اس ارادہ کا مقابلہ کرے۔ وہ فعال لما یرید (ھود : ۱۰۸) ہے مسلمانو۱ یاد رکھو اﷲت علایٰ نے میرے ذریعہ تمہیں یہ خبر دے دی ہے اور میں نے اپنا پیام پہنچا دیا ہے۔ اب اس کو سننا نہ سننا تمہارے اختیار میں ہے یہ سچی بات ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑوفات پا چکے ہیں اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو موعود آنے والا تھ اوہ میں ہی ہوں۔ اسلام کی زندگی عیسیٰ ؑ کے مرنے میں ہے اور یہ بھی پکی بات ہے کہ اسلام کی زندگی عیسیٰ کے مرنے میں ہے۔اگر اس مسئلہ پر غور کرو گے تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ یہی مسئلہ ہے جو عیسائی مذہب کا خاتمہ کر دینے والا ہے، یہ عیسائی مذہب کا بہت بڑا شہتیر ہے اور اسی پر اس مذہب کی عمارت قائم کی گئی ہے۔ اسے گرنے دو۔ یہ معاملہ بڑی صفائی سے طے ہو جاتا ۔ اگر میرے مخالف خدا ترسی اور تقویٰ س یکام لیتے۔ مگر ایک کا نام لو جو درندگی چھوڑ کر میرے پاس آیا ہو اور اُس نے اپنی تسلی چاہی ہو۔ان کا تو یہ حال ہیکہ میرا نام لیت یہی اُن کے منہ سے جھاگ گرنی شروع ہو جاتی ہے اور وہ گالیاں دینے لگتے ہیں۔ بھلا اس طرح پر بھی کوئی شخص حق کو پاسکتا ہے؟ میں تو قرآن شریف کے نصوص صریحہ کو پیش کرتا ہوں اور حدیث پیش کرتا ہوں اجماع صحابہؓ پیش کرتا ہ٭ں، مگر وہ ہیں کہ ان باتوں کو سنتے نہیں اور کافر کافر دجال دجال کہہ کر شور مچاتے ہیں۔ میں صاف طور پر کہت اہوں کہ قرآن شریف سے تم ثابت کرو کہ مسیح زندہ آسمان پر چلا گیا ہو۔ آنحضرت ﷺ کی رؤیت کے خلاف کوئی امر پیش کرو اور یا بو بکر ؓ کے وقت آنحضرت کی وفات پر جو پہلا اجماع ہوا۔ اس کے خلاف دکھائو تو جواب نہیں ملتا۔ پھر بعض لوگ شور مچاتے ہیں کہ اگر آنے والا وہی مسیح ابنِ مریم اسرائیلی نبی نہ تھا تو آنے والے کا یہ نام کیوں رکھا؟ میں کہتا ہوں کہ یہ اعتراض کیسی نادانی کا اعتراض ہے۔ تعجب کی بات