جواب دیا کہ یہ محض افترا ہے۔ توریت سے کسی ایسے خدا کا پتہ نہیں ملتا۔ ہمارا وہ خد اہے جو قرآن شریف کا خد اہے ۔یعنی جس طرح پر قرآن مجید نے خدا تعالیٰ کی وحدت کی اطلاع دی ہے اسی طرح پر ہم توریت کی رو سے خد اتعالیٰ کو وحدہْ لا شریک مانتے ہیں اور کسی انسان کو خد انہیں مان سکتے۔ اور یہ تو موٹی بات ہے کہ اگر یہودیوں کے ہاں کسی ایسے خدا کی خبر دی گئی ہوتی۔ جو عورت کے پیٹ سے ہونے والا تھا تو وہ حضرت مسیح ؑکی ایسی سخت مخالفت ہی کیوں کرتے یہانتک کہ انہوں نے اس کو صلیب پر چڑھوادیا ۔اور ان پر کفر کہنے کا الزام لگاتے تھے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس امر کو ماننے کے لیے قطعاً تیار نہ تھے۔
غرض عیسائیوں نے گناہ کے دور کرنے کا جو علاج تجویز کیا ہے وہ ایسا علاج ہے جو بجائے خود گناہ کو پیدا کرتا ہے اور اس کو گناہ سے نجات پانے کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے؎ٰ۔انہوں نے گناہ کے دور کرنے کا علاج گناہ تجویز کیا ہے جو کسی حالت اور صورت میں مناسب نہیں۔ یہ لوگ اپنے نادان دوست ہیں۔ اور ان کی مثال اس بندر کی سی ہے جس نے اپنے آقا کا نون کر دیا تھا۔اپنے بچائو کے لیے اور گناہوں سے نجات پانے کے لیے ایک ایسا گناہ تجویز کیا جو کسی صورت میں بخشا نہ جاوے یعنی شرک کیا اور عاجز انسان کو خد ابنالیا۔ مسلمانوں کے لیے کس قدر خوشی کا مقام ہے کہ ان کا خدا ایسا خد انہیں جس پ رکوئی اعتراض یا حملہ ہو سکے۔ وہ اس کی طاقتوں اور قدرتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی صفات پر یقین لاتے ہیں۔ مگرجنہوں نے انسان کو خد ابنایا یا جنہوں نے اس کی قدرتوں سے انکار کر دیا، ان کے لیے خدا کا عدم و جود برابر ہے۔ جیسے مثلاً آریوں کا مذہب ہے کہ ذرہ ذرہ اپنے وجود کا آپ ہی خد اہے اور اس نے کچھ بھی پید انہیں کیا۔ اب بتائو کہ جب ذرات کے وجود کا خالق خدا نہیں تو اس کے قیام کے لیے خد اکی حاجب کیا ہے جبکہ طاقتیں خود بخود موجود ہیں اور اُن میں اتصال اور اتفصال کی قوتیں بھی موجود ہیں تو پھر انصاف سے بتائو کہ ان کے لیے خدا کے وجود کی کیا ضرورت ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس عقیدہ کے رکھنے والے آریوں اور دہریوں میں انیس (۱۹) اور بیس (۲۰) کا فرق ہے اب اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو کامل اور زندہ مذہب ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ پھر اسلام کی عظمت شوکت ظاہر ہو۔ اور اسی مقصد کو لے کر میں آیا ہوں۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ جو انوار و برکات اس وقت آسمان سے اُتر رہے ہیں، وہ ان کی قدر