مقصد اسلام ہی کامل طور پر پور اکرتا ہے اور اس کا ایک ہی ذریعہ ہے۔ مکالمات اور مخاطباتِ الٰہیہ کیونکہ اسی سے اﷲ تعالیٰ کی ہستی پر کامل یقین پیدا ہوتاہے اور اسی سے معلوم ہوتاکہ فی الحقیقت اﷲ تعالیٰ گناہ سے بیزار ہے اور وہ سزا دیتا ہے۔گناہ ایک زہر ہے جو اول صغیرہ سے شروع ہوت اہے اور پھر کبیرہ ہو جاتا ہے اور انجام مکار کفر تک پہنچا دیتا ہے۔ گناہ سے بچنے کا صحیح علاج؎ میں جملہ معرضہ کے طور پر کہتا ہوں کہ اپنی اپنی جگہ ہر قوم کو فکر لگ اہوا ہے کہ ہم گناہ سے پاک ہو جاویں مثلاً آریہ صاحبان نے تو یہ بات رکھی ہوئی ہے کہ بجز گناہ کی سزا کے اور کوئی صورت پاک ہونے کی ہے ہی نہین۔ ایک گناہ کے بدلے کئی لاکھ جونیں ہیں جبتک انسان ان جونوں کو نہ بھگت لے وہ پاک ہی نہیں ہو سکتا۔مگر اس میں بڑی مشکلات ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ جبکہ تمام مخلوقات گناہ گار ہی ہے تو اس سے نجات کب ہوگی؟ اور اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ اُن کے ہاں یہ امر مسلمہ ہے کہ نجات یافتہ بھی ایک عرصہ کے بعد مکتی خانہ سے نکال دیئے جاویں گے تو پھر اس نجات سے فائدہ ہی کیا ہوا؟ جب یہ سوال کیا جاوے کہ نجات پانے کے بعد کیوں نکالتے ہو تو بعض کہتے ہیں کہ نکالنے کے لیے ایک گناہ باقی رکھ لیا جاتا ہے۔ اب غور کر کے بتائو کہ کیا یہ قادر خدا کا کام ہو سکتا ہے؟اور پھر جبکہ ہر نفس اپنے نفس کا خود خالق ہے۔ خدا تعالیٰ اس کا خالق ہی نہیں (معاذ اﷲ) تو اُسے حاجت ہی کیا ہے کہ وہ اس کا ماتحت رہے۔ دوسرا پہلو عیسائیوں کا ہے انہوں نے گناہ سے پاک ہونے کا ایک پہلو سوچا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑکو خد ااور خدا کا بیٹا مان لو اور پھر یقین کر لو کہ اس نے ہمایرے گناہ اٹھا لیے اور وہ صلیب کے ذریعہ لعنتی ہوا۔نعوذ باﷲ من ذالک۔ اب غور کرو کہ حضولِ نجات کو اس طریق سے کیا تعلق؟ گناہوں سے بچانے کے لیے ایک اور بڑا گناہ تجویز کیا کہ انسان کو خدا بنایا گیا۔ کیااس سے بڑھ کر کوء اور گناہ ہو سکت اہے؟ پھر خدا بنا کر اُسے معاملعون بھی قرار دیا۔ اس سے بڑھ کر گستاخی اور بے ادبی اﷲ تعالیٰ کی کیا ہوگی؟ ایک کھاتا پیتا حوائج کا محتاج خدا بنالیا گیا؛ حالانکہ توریت میں لکھا تھا کہ دوسرا خدا نہ ہو۔نہ آسمان پر نہ زمین پر۔ پھر دروزاوں اور چوکھٹوں پر یہ تعلیم لکھی گئی تھی۔ اس کو چھوڑ کر یہ نیا خدا تراشا گیا جس کا کچھ بھی پتہ توریت میں نہیں ملتا۔ میں نے فاضل یہودی سے پوچھا کہ کیا تمہارے ہاں ایسے خدا کا پتہ ہے جو مریم کے پیٹ سے نکلے اور وہ یہودیوں کے ہاتھوں سے ماریں کھاتا پھرے۔اس پر یہودی علماء نے مجھے یہی