شریف اس دعا کی تو ہدایت کرتا ہے مگر اس کا ثمرہ کچھ بیھ نہیں یا اس اُمت کے کسی فرد کو بھی یہ شرف نہیں مل سکتا اور قیامت تک یہ دروازہ بند ہو گیا ہے۔بتائو اس سے اسلام اور آنحضرت ﷺ کی ہتک ثابت ہوگی یا کوئی خوبی ثابت ہوگی؟ میں سچ سچ کہت اہوں کہ جو شخص یہ اعتقاد رکھتا ہے وہ اسلام کو بدنام کرتا ہے اور اس نے مغز شریعت کو سمجھا ہی نہین’ اسلام کے مقاصد میں سے تو یہ امر تھا کہ انسان صرف زبان ہی سے وحدہْ لا شریک نہ کہے بلکہ درحقیقت سمجھ لے اور بہشت دوزخ پر خیالی ایمان نہ ہو بلکہ فی الحقیقت اسی زندگی میں وہ بہشتی کیفیات پر اطلاع پالے اور ان گناہوں سے جن میں یہ وحشی انسان مبتلا ہیں نجات پالے۔ یہ عظیم الشان مقصد انسان کا تھ ااور ہے اور یہ ایسا پاک مطہر مقصد ہے کہ کوئی دوسری قوم اس کی نظیر اپنے مذہب میں پیش نہیں کر سکتی اور نہ اس کا نمونہ دکھا سکتی ہے۔کہنے کو تو ہر ایک کہہ سکتا ہے مگر وہ کون ہے جو دکھا سکتا ہو؟
میں نے آریوں سے عیسائیوں سے پوچھا ہے کہ وہ خد اجو تم مانتے ہو اس کا کوئی ثبوت پیش کرو۔ نری زبانی لاف گزاف سے بڑھ کر وہ کچھ بھی نہیں دکھا سکتے۔ وہ سچا خد اجو قرآن شریف نے پیش کیا ہے اس سے یہ لوگ ناواقف ہیں’ اس پر اطلاع پانے کے لیی یہی ایک ذریعہ مکالمات کا تھا جس کے سبب سے اسلام دوسرے مذاہب سے ممتاز تھا۔ مگر افسوس ان مسلمانوں نے میری مخالفت کی وجہ سے اس سے بھی انکار کر دیا۔
یقینا یاد رکھو کہ گناہوں سے بچنے کی توفیق اس وقت مل سکتی ہے جب انسان پورے طور پر اﷲ تعالیٰ پر ایمان لاوے۔ یہی بڑا مقصد انسانی زندگی کا ہے کہ گناہ کے پنجہ سے نجات پالے۔ دیکھو ایک سانپ جو خوشنما معلوم ہوت اہے بچہ تو اس کو ہاتھ میں پکڑنے کی خواہش کر سکت اہے اور ہاتھ بھی ڈال سکت اہے لیکن ایک عقلمند جو جانت اہے کہ سانپ کاٹ کھائے گا اور ہلاک کردے گا وہ کبھی جرأت نہیں کرتے گا کہ اس کی طرف لپکے۔بلکہ اگر معلوم ہو جاوے کہ کسی مکان میں سانپ ہے تو اس میں بھی داخل نہیں ہوگا۔ ایسا ہی زہر کو جو ہلاک کرنے والی چیز سمجھتا ہے تو اُسے کھانے پر وہ دلیر نہیں ہوگا۔ پس اسی طرح پر جبتک گناہ کو خطرناک زہر یقین نہ کرلے۔ اس سے بچ نہیں سکتا۔ یہ یقین معرفت کے بدوں پیدا نہیں ہوسکتا۔ پھر وہ کیا بات ہے کہ انسان گناہوں پر اس قدر دلیر ہو جاتا ہے باوجود یکہ وہ خد اتعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور گناہ کو گناہ بھی سمجھتا ہے۔ اس کی وجہ بجز اس کے اور کوئی نہین کہ وہ معرفت اور بصیرت نہیں رکھتا جو گناہ سوز فطرت پیدا کرتی ہے۔ اگر یہ بات پید ا نہیں ہوتی تو پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ معاذ اﷲ اسلام اپنے اصلی مقصد سے خالی ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ ایسا نہیں۔یہ