15 جون 1904ء
حقیقی تہذیب
صنعت و حرفت مین دسترس حاصل کرنے، سیر و سیاحت میں قوم کے افراد کو مشگول رہنے۔لنڈن ہو آنے، مشنوں میں ترقی کرنے وغیرہ کو آج کل تہذیب کے نام سے نامزد کیا جاتا ہے۔اور جب کسی قوم میں یہ باتیں ہوں تو اسے ایک مہذب قوم کہتے ہیں یہ ذکر ایک صاحب نے حضرت اقدسؑ کی مجلس میں آج کیا۔
اس پر آپؐ نے فرمایا کہ :
جس قوم میں راستی کا پیار نہیں۔اعمال میں للّٰہیت نہیں اورریاکاری اور خود پسندی اس کا شیوہ ہے، اُسے مہذب نہین کہہ سکتے۔تہذیب کے اصول اخلاص، صدق اور توحید ہیں۔وہ سوائے اسلام کے اور کسی دوسرے مذہب میں نہیں مل سکتے۔عیسائیوں کو اخلاق کا بڑا ناز ہے، مگر ان کی جو بات دیکھو اسی میں گناہ ہے۔کوئی عمل ہو اس میں ریاکاری ضرور ہے؛ حالناکہ خلق وہ ہے جو للہ ہو۔خدا تعالیٰ کی عظمت، اس پر ایمان اور نوع انسان کی خدمت یہ باتیں خلق کی ہیں۔لیکن یہاں خدا کی جگہ تو ایک یسوع نامی کو دیدی گئی ہے اور مخلوق کے ساتھ جو معاملہ ہے وہ ظاہر ہے۔بات یہ ہے کہ جب خدا کو شناخت ہی نہیں کیا، تو اس پر نظر رکھ کر کسی کی خدمت کیا کرسکتے ہیں؟ سچے خلق کا برتائو بہت مشکل ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ ہر ایک قویٰ کو برمحل برتا جاوے اور خد اسے ڈر کر وہ اپنی حد پر رہیں۔لیکن ایمان کے سوا یہ باتیں حاصل نہیں ہوتیں۔ثواب اس کو ملا کرتا ہے جو خدا تعالیٰ سے ڈر کر گناہ کو چھوڑتا ہے یا اس کو راضی کرنے کی محنت برداشت کرکے ایک نیکی کو کرتا ہے۔اور جب تک یہ نیت نہیں ہوتی۔تب تک ہرگز ثواب نہیں ملتا؛ اگر چہ وہ کام بذات خود نیک ہی ہو۔ہند و لوگ بتون کی خاطر کیا کیا کرتے ہیں۔کتنی محنتیں اٹھاتے ہیں مگر سب کی سب رائیگاں جاتی ہیں۔؎ٰ
۱۹؍جون ۱۹۰۴ء بوقت ظہر
متقی کون ہے؟
ایک مولوی صاحب جن کے والد بزرگوار احمدی جماعت میں داخل تھے اور بقضائے الٰہی فوت ہو گئے۔علاقہ گوجرانوالہ سے تشریف لائے ہوئے