وجہ سے ان میں ظلم بڑھ گیا تھا۔ اس لی توریت کے زمانہ میں عدل کی ضرورت مقدم تھی، کیونکہ وہ لوگ اس سے بے خبر تھے اور جابر انہ عادت رکھتے تھے اور انہوں نے یقین کر لیا تھا کہ دانت کے بدلے دانت کا توڑنا ضروری ہے اور یہ ہمارا فرض ہے۔اس وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے ان کو سکھایا کہ عدل تک ہی بات نہیں رہتی بلکہ احسان بھی ضروری ہے۔اس سبب سے مسیح ؑ کے ذریعہ انہیں یہ تعلیم دی گئی کہ ایک گال پر طمانچہ کھ اکر دوسری پھیر دو۔ اور جب اسی پر سارا زور دیا گیا تو آخر اﷲ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ذریعہ اس تعلیم کو اصل نقطہ پر پہنچا دیا اور وہ یہی تعلیم تھی کہ بدی کا بدلہ اسی کدر بدی ہے لیکن جو شخص معاف کر دے اور معاف کرنے سے اصلاح ہو تی ہے ہو۔ اس کے لیے اﷲتعالیٰ کے حضور اجر ہے۔ عفو کی تعلیم دی ہے مگر ساتھ قید لگائی کہ اصلاح ہو۔ بے محل عفو نقصان پہنچاتا ہے۔پس اس مقام پر غور کرنا چاہیے کہ جب توقع اصلاح کی ہو تو عفو ہی کرنا چاہیے۔ جیسے دو خدمتگار ہوں، ایک بڑا شریف الاصل اور فرمانبردار اور خیر خواہ ہو لیکن اتفاقاً اس سے کوئی غلطی ہو اجوے۔ اس موقعہ پر اس کو معاف کرنا ہی مناسب ہے۔ اگر سزا دی جاوے تو ٹھیک نہیں، لیکن ایک بدمعاش اور شریر ہے۔ ہر روز نقصان کرتا ہے اور شرارتوں سے باز نہیں آتا۔ اگر اسے چھوڑ دیا جاوے تو وہ اور بھی بیباک ہو جائے گا۔اس کو سزا ہی دینی چاہیے۔ غرض اس طرح پر محل اور موقع شناسی سے کام لو۔ یہ تعلیم ہے جو اسلام نے دی ہے اور جو کامل تعلیم ہے۔ اس کے بعد اور کئی نئی تعلیم یا شریعت نہیں آسکتی۔ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں اور قرآن شریف خاتم الکتب۔ اب کوئی اور کلمہ یا کوئی اورنماز نہیں ہو سکتی۔ جو کچھ آنحضرت ﷺ نے فرمایا یا کرکے دکھایا اور جو کچھ قرآن شریف میں ہے اس کو چھوڑ کر نجات نہیں مل سکتی۔ جو اس کو چھوڑے گا ۔ وہ جہنم میں جاوے گا۔ یہ ہمارا مذہب اور عقیدہ ہے۔ امت کے لیے مکالمہ ومخاطبہ کا دروازہ کھلا ہے مگر اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس امت کے لیے مخاطبات اور مکالمات کا دروازہ کھلا ہے اور یہ دروازہ گویا قرآن مجید کی سچائی اور آنحضرت ﷺ کی سچائی پر ہر وقت تازہ شہادت ہے اور اس کے لیے خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ ہی میں یہ دعا سکھائی ہے اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم (الفاتحہ : ۶،۷) انعمت علیہم کی راہ کے لیے جو دعا سکھائی تو اس میں انبیاء علیہم السلام کے کمالات کے حصول کا اشارہ ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو جو کامل دیا گیا وہ معرفت الٰہی ہی کا کمال تھا۔ اور یہ نعمت ان کو مکالمات اور ماخطبات سے ملی تھی۔ اسی کے تم بھی خواہاں ہو۔پس اس نعمت کے لیے یہ خیال کرو کہ قرآن