شمار نہیں کر سکتا۔ اور چونکہ محسن کے شمائل اور خصائل کو مد نظر رکھنے سے اس کے احسان تازا رہتے ہیں، اس لیے احسان کا مفہوم آنحضرت ﷺ نے یہ بتایا ہے کہ ایسے طور پر اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرے گویا دیکھ رہا ہے یا کم از کم یہ کہ اﷲ تعالیٰ اُسے دیکھ رہا ہے۔ اس مقام تک انسان میں ایک حجاب رہتا ہے۔ لیکن اس کے بعد جو تیسرا درجہ ہے ایتاء ذی القربیٰ کا یعنی اﷲ تعالیٰ سے اسے ذاتی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور حقوق العباد کے پہلو سے میں اس کے معنے پہلے بیان کر چکا ہوں۔اور یہ بھی میں نے بیان کیا ہے کہ یہ تعلیم جو قرآن شریف نے دی ہے کسی اور کتاب نے نہیں دی اورایسی کامل ہے کہ کوئی نظیر اس کی پیش نہیں کر سکتا ۔یعنی
جزٰ ؤ ا سیئۃ سیئۃ مثلھا۔ (الشوریٰ : ۴۱)
اس میں عفو کے لیے یہ شرط رکھی ہے کہ اس میں اصلاح ہو۔ یہودیوں کے مذہب نے تو یہ کہا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔ ان میں انتقامی قوت اس قدر بڑھ گئی تھی اور یہانتک یہ عادت ان میں پختہ ہو گئی تھی کہ اگر باپ نے بدلہ نہیں لیا تو بیٹے اور اسکے پوتے تک کے فرائض میں یہ امر ہوتا تھا کہ وہ بدلہ لے۔ اس وجہ سے ان میں کینہ توزی کی عادت بڑھ گئی تھی اور وہ بہت سنگ دل اور بے درد ہو چکے تھے۔ عیسائیوں نے اس تعلیم کے مقابل یہ تعلیم دی کہ ایک گال پر کوئی طمانچہ مارے تو دوسری بھی پھیردو۔ ایک کوس بیگار لے جاوے تو دو کوس چلے جائو وغیرہ۔ اس تعلیم میں جو نقص ہے۔ وہ ظاہر ہے۔ کہ اس پر عملد ر آمد ہی نہیں ہو سکتا۔ اور عیسائی گورنمنٹ نے عملی طور ثابت کر دیا ہے کہ یہ تعلیم ناقص ہے کیا یہ کسی عیسائی کی جرأت ہو سکتی ہے کہ کوئی خبیث تو اور بھی دلیر ہو اجئے گا اور اس سے امن عامہ میں خلل واقع ہوگا۔ پھر کیونکر ہم تسلیم کریں کہ یہ تعلیم عمدہ ہے یا خدا تعالیٰ کی مرضی کیموافق ہو سکتی ہے۔اگر اس مر عمل ہو تو کسی ملک کا بھی انتظام نہ ہو سکے۔ ایک ملک ایک دشمن چھین لے تو دوسرا خود حوالہ کرنا پڑے۔ ایک افسر گرفتار ہو اجوے تو دس اور دے دیئے جاویں۔ یہ نقص ہیں جو ان تعلیموں میں ہیں اور یہ صحیح نہیں۔ ہاں یہ ہو سکت اہے کہ یہ احکام بطور قانون مختص الزمان تھے۔ جب وہ زمانہ گذر گیا تو دوسرے لوگوں کے حسب ِ حال وہ تعلیم نہ رہی۔ یہودیوں کا وہ زمانہ تھا کہ وہ چار سو برس تک غلامی میں رہے۔ اور اس غلامی کی زندگی کی وجہ سے ان مین قساوت قلبی بڑھ گئی اور وہ کینہ کش ہو گئے۔ اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس بادشاہ کے زمانہ میں کوئی ہوتا ہے اس کے اخلاق بھی اسی قسم کے ہو جاتے ہیں۔سکھوں کے زمانہ میں اکثر لوگ ڈاکو ہو گئے ے۔ انگریزوں کے زمانہ میں تہذیب اور تعلیم پھیلتی جاتی ہے اور ہر شخص اس طرف کوشش کر رہے ہے۔ غرض بنی اسرائیل نے فرعون کی ماتحتی کی تھی، اسی