اور ذاتی محبت پیدا ہو جاوے۔
ایک مقام پر یوں فرمایا ہے
ان اﷲ یا مر با لعدل وا لاحسان وایتاء ذی القربی (انحل : ۹۱)
اس آیت میں ان تین مدارج کا ذکر کیا ہے جو انسان کو حاصل کرنے چاہئیں ۔پہلا مرتبہ عدل کا ہے اور عدل یہ ہے کہ انسان کسی سے کوئی نیکی کرے بشرطِ معاوضہ۔ اور یہ ظاہر بات ہے کہ ایسی نیکی کوئی اعلیٰ درجہ کی بات نہیں بلکہ سب سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ عدل کرو اور اگر اس پر ترقی کرو تو پھر وہ احسان کا درجہ ہے یعنی بلا عوض سلوک کرو۔ لیکن یہ امر کہ جو بدی کرتا ہے اس سے نیکی کی جاوے؛ کوئی ایک گال پر طمانچہ مارے دوسری پھیر دی جاوے۔ یہ صحیح نہیں۔ یا یہ کہو کہ عام طور پر یہ تعلیم عملد ر آمد میں نہیں آسکتی؛ چنانچہ سعدیؔ کہتا ہے ؎
نکوئی با بداں کرون چناں است
کہ بد کرون برائے نیک مرداں
اس لیے اسلام میں انتقامی حدود میں جو اعلیٰ درجہ کی تعلیم دی ہے کوئی دوسرا مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور وہ یہ ہے۔
جزٰئو ا سیئۃ سیئۃ مثلھا فمن عفا واصلح (الشوریٰ : ۴۱)
آلایتہ یعنی بدی کی سزا اسی قدر بدی ہے اور جو معاف کر دے مگر ایسے محل اور مقام پر کہ وہ عفو اصلاح کا موجب ہو، اسلام نے عفو خطا کی تعلیم دی ،لیکن یہ نہیں کہ اس سے شر بڑھے۔
غرض عدل کے بعد دوسرا درجہ احسان کے ہے یعنی بغیر کسی معاوضہ کے سلوک کیا جاوے لیکن اس سلوک میں بھی ایک قسم کی خود غرضی ہوتی ہے۔ کسی نہ کسی وقت انسان اس احسان یا نیکی کو جتا دیتا ہے اس لیے اس سے بھی بڑھ کر ایک تعلید دی اور وہ ایتائی ذی القربیٰ کا درجہ ہے۔ ماں جو اپنے بچہ کی ساتھ سلوک کرتی ہے وہ اس سے کسی معاوضہ اور انعام و اکرام کی خواہشمند نہیں ہوتی۔ وہ اس کے ساتھ جو نیکی کرتی ہیمحض طبعی محبت سے کرتی ہے۔ اگر بادشاہ اس کو حکم دے کہ تو اس کو دودھ مت دے اور اگر یہ تیری غفلت سے مر بھی جاوے تو تجھے کوئی سزا نہیں دی جاوے گی بلکہ انعام دیا جاوے گا۔ اس صورت میں وہ بادشاہ کا حکم ماننے کو تیار نہ ہوگی بلکہ اسکو گالیاں دے گی کہ یہ میری اولاد کا دشمن ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ ذاتی محبت سے کر رہی ہے، اس کی کوئی غرض درمیان نہیں۔ یہ اعلیٰ درجہ کیت علیم ہے جو اسلام پیش کرتا ہے اور یہ آیت حقوق اﷲ اور حقوق العباد دونوں پر حاوی ہے۔ حقوق اﷲ کے پہلو کے لحاظ سے اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ انصاف کی رعایت سے اﷲ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرو۔جس نے تمہیں پید اکیا اور تمہاری پرورش کرتا ہے۔ اور جو اطاعت الٰہی میں اس مقام سے ترقی کرے تو احسان کی پابندی سے اطاعت کر کیونکہ وہ محسن ہے اور اس کے احسانات کو کوئی