غلط فہمی میں مبتلا ہیں انہوں نے یہ بھی جائز رکھا ہے کہ کفار کا مال ناجائز طور پر لینا بھی درست ہے خود میری نسبت بھی ان لوگوں نے فتویؓ دیا کہ ان کا مال لوٹ لو بلکہ یہانتک بھی کہ ان کی بیویاں نکال لو؛ حالانکہ اسلام میں اس قسم کی ناپاک تعلیمیں نہ تھیں۔ وہ تو ایک صاف اور مصفیٰ مذہب تھا۔ اسلام کی مثال ہم یوں دے سکتے ہیں کہ جیسے باپ اپنے حقوقِ ابوّت کو چاہتا ہے اسی طرح وہ چاہتا ہے کہ اولاد میں ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی ہو۔ وہ نہیں چاہتا کہ ایک دوسرے کو مارے۔ اسلام بھی جہاں یہ چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی شریک نہ ہو، وہان اس کا یہ بھی منشا ہے کہ نوع انسان میں مودّت اور وحدت ہو؎ٰ۔ نماز میں جو جماعت کا زیادہ ثوب رکھ اہے اس میں یہی غرض ہے کہ وحدت پیدا ہوتی ہے اور پھر اس وحدت کو عملی رنگ میں لانے کی یہانتک ہدایت اور تاکید ہے کہ باہم پائوں بھی مساوی ہوں اور صف سیدھی ہو اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں۔اس سے مطلب یہ ہے کہ گویا ایک ہی انسان کا حکم رکھیں اور ایک کے انوار دوسرے میں سرایت کر سکیں۔وہ تمیز جس ے خود اور خود غرضی پیدا ہوتی ہے نہ رہے۔ یہ خوب یاد رکھو کہ انسان میں یہ قوت ہیکہ وہ دوسرے کے انوار کو جذب کرتا ہے۔پھر اسی وحدت کے لیے حکم ہے کہ روزانہ نمازیں محلہ کی مسجد میں اور ہفتہ کے بعد شہر کی مسجد میں اور پھر سال کے بعد عید گاہ میں جمع ہوں اور کل زمین کے مسلمان سال میں ایک مرتبہ بیت اﷲ میں اکٹھے ہوں۔ ان تمام احکام کی غرض وہی وحدت ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے حقوق کے دو ہی حصے رکھے ہیں۔ ایک حقوق اﷲ دوسرے حقوق العباد۔ اس پر بہت کچھ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک مقام پر اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فاذکرو ااﷲ کذکرکم اباء کم او اشدا ذکرا (البقرۃ : ۲۰۱) یعنی اﷲ تعالیٰ کو یاد کرو جس طرح پر تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے ہو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ اس جگہ دو رمز ہیں۔ ایک توذکر اﷲ کو ذکر آباء سے مشابہت دی ہے اس میں یہ سر ہے کہ آباء کی محبت ذاتی اور فطری محبت ہوتی ہے۔ دیکھو بچہ کو جب ماں مارتی ہیوہ اس وکت بھی ماں ماں ہی پکارتا ہے۔ گویا اس آیت میں اﷲ تعالیٰ انسان کو ایسی تعلیم دیت اہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے فطری محبت کا تعلق پیدا کرے۔ اس محبت کے بعد اطاعت امر ال کی خود بخود پیدا ہوتی ہے ۔یہی وہ اصلی مقام معرفت کا ہے جہاں انسان کو پہنچنا چاہیے۔یعنی اس میں اﷲ تعالیٰ کے لیے فطری