اس آیت میں بھی دراصل ایک پیشگوئی مرکوز تھی یعنی جب چودھویں صدی میں اسلام ضعیف اور ناتوان ہو جائے گا۔ اس وقت اﷲ تعالیٰ اس وعدہ حفاظت کے موافق اس کی نصرت کرے گا۔ پھر تم کیوں تعجب کرتے ہو کہ اس نے اسلام کی نصرت کی۔ مجھے اس بات کا افسوس نہیں کہ میرا نام دجال اور کذاب رکھا جاتا ہے۔ اور مجھ پھر تہمتیں لگائی جاتی ہیں اس لیے کہ یہ ضرور تھا کہ میرے ساتھ وہی سلوک ہوتا جو مجھ سے پہلے فرستادوں کے ساتھ ہوا تھا میں بھی اس قدیم سنت سے حصہ پاتا۔
میں نے ان مصائب اور شدائد کا کچھ بھی حصہ نہیں پایا لیکن جو مصیبتیں اور مشکلات ہمارے سید مولا آنحصرت ﷺ کی راہ میں آئیں، اس کی نظیر انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ یں کسی کے لیے نہیں پائی جاتی۔ آپؐ نے اسلام کی خاطر وہ دکھ اٹھائے کہ قلم ان کے لکھنے اور زبان ان کے بیان سے عاجز ہے اور اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کیسے جلیل الشان اور اولوالعزم نبی تھے۔ اگر خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت آپؐ کے ساتھ نہ ہوتی تو ان مشکلات کے پہاڑ کو اُٹھانا نا ممکن ہو جاتا۔ اور اگر کوئی اور نبی ہوتا تو وہ بھی رہ جاتا۔ مگر جس اسلام کو ایسی مصیبتوں اور دکھوں کے ساتھ آپؐ نے پھیلا ای تھا آج اس کا جو حال ہو گیا ہے وہ میں کیونکر کہوں؟
اسلام کی حقیقت اور تعلیم
اسلام کے معنے تو یہ تھے کہ انسان خد اتعلایٰ کی محبت اور اطاعت میں فنا ہو جاوے اور جس طرح پر ایک بکری کی گردن قصاب کے آگے ہوتی ہے اسی طرح پر مسلمان کی گردن خدا تعالیٰ کی اطاعت کے لیے رکھ دی جاوے اور اس کا مقصد یہ تھا کہ خدا تعالیٰ ہی کو وحدہْ لا شریک سمجھے۔ جب آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے اس وقت یہ توحید گم ہو گئی تھی اور یہ دیش آریہ ورت بھی بُتوں سے بھرا ہوا تھا جیسا کہ پنڈت دیانند سر سوتی نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے۔ ایسی حالت اور ایسے وقت میں ضرور تھا کہ آپ مبعوث ہوتے اس کا ہمرنگ یہ زمانہ بھی ہے جس میں بت پرستی کے ساتھ انسان پرستی اور دہریت بھی پھیل گئی ہے اور اسلام کا اصل مقصد اور روح باقی نہیں رہی۔اس کا مغز تو یہ تھا کہ خدا ہی کی محبت میں فنا ہو جانا اور اس کے سوا کسی کو مبعود نہ سمجھنا اور مقصد یہ ہے کہ انسان رو بخدا ہو جاوے رو بدنیا نہ رہے اور اس مقصد کے لیے اسلام نے اپنی تعلیم کے دو حصے کئے ہیں۔ اولؔ حقوق اﷲ، دومؔ حقوق العباد ۔حق اﷲ یہ ہے کہ اس کو واجب الاطاعت سمجھے اور حقوق العباد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی مخلوق سے ہمدردی کریں۔یہ طریق اچھا نہیں کہ صرف مخالفت مذہب کی وجہ سے کسی کو دکھ دیں۔ ہمدردی اور سلوک الگ چیز ہے اور مخالفت مذہب دوسری شے۔ مسلمانوں کا وہ گروہ جو جہاد کی غلطی اور