معاف نہ کرے۔ اس قسم کی غلطیان ہیں جو قوم میں واقع ہو گئی ہیں۔ انہیں غلطیوں میں سے جہاد کی غلطی بھی ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ جب میں کہتا ہوں کہ جہاد حرام ہے توکالی پیلی آنکھیں نکال لیتے ہیں حالانکہ خدو ہی مانتے ہیںکہ جو حدیثیں خونی مہدی کی ہیں وہ مخدوش ہیں۔ مولوی محمد حسین بٹالوی نے اس باب میں رسالے لکھے ہیں اور یہی مذہب میاں نذیر حسین دہلوی کا تھا۔ وہ ان کو قطعی صحیح نہیں سمجھتے۔پھر مجھے کیوں کاذب کہا جاتا ہے۔ سچی بات یہی ہے کہ مسیح موعود اور مہدی کا کام یہی ہے کہ وہ لڑائیوں کے سلسلہ کو بند کرے گا۔ اور قلم، دعا، توجہ سے اسلام کا بول بالا کرے گا۔ ارو افسوس ہے کہ لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی اس لیے کہ جس قدر توجہ دنیا کی طرف ہے، دین کی طرف نہیں۔دنیا کی آلودگیوں اور تاپاکیوں میں مبتلا ہو کر یہ امید کیونکر کر سکتے ہیں کہ ان پر قرآن کریم کے معاف کھلیں وہاں صاف لکھا ہے۔
لا یمسہ الا المطھرون (الواقعہ : ۸۰)
مسیح موعود کی بعثت کی علّتِ غائی
اس بات کو بھی دل سے سنو کہ یرے مبعوث ہونے کی علت غائی کیا ہے؟ میرے آنے کی غرض اور مقصود صرف اسلام کی تجدید اور تائید ہے۔ اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ میں اس لیے آیا ہوں کہ کوئی نئی شریعت سکھائوں یا نئے احکام دوں یا کوئی نئی کتاب نازل ہوگی۔ ہرگز نہیں۔ اگر کوئی شخص یہ خیال کرتا ہے تو میرے نزدیک وہ سخت گمراہ اور بے دین ہے۔ آنحصرت ﷺ پر شریعت اور نبوت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اب کوئی شریعت نہیں آسکتی۔ قرآن مجید خاتم الکتب ہے۔ اس میں اب ایک شعشہ یا نقطہ کی کمی بیشی کی گنجائش نہیں ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے برکات اور ھیوضات اور قرآن شریف کی تعلیم اور ہادیت کے ثمرات کا خاتمہ نہیں ہو گیا۔ وہ ہر زمانہ یں تازاہ بتازہ موجود ہیں اور انہیں فیوضات اور برکات کے ثبوت کے لیے خدا تعالیٰ نے مجھے کھڑا کیا ہے۔اسلام کی جو حالت اس وقت ہے وہ پوشیدہ نہیں۔بالا تفاق مان لیا گیا یہ کہ ہر قسم کی کمزوریوں اور تنزّل کا نشانہ مسلمان ہو رہے ہیں۔ہر پہلو سے وہ گر رہے ہیں۔ان کی زبان ساتھ ہے تو دل نہیں ہے اور اسلام یتیم ہو گیا ہے۔ ایسی حالت میں خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے کہ میں اس کی حمایت اور سر پرستی کروں اور اپنے وعدہ کے موافق بھیجا ہے کیونکہ اس نے فرمایا تھا
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون (الحجر : ۱۰)
اگر اس وقت اور حمایت اور نصرت اور حفاظت نہ کی جاتی تو وہ اور کونسا وقت آئے گا۔ اب اس چودھویں صدی میں وہی حالت ہو رہی ہے جو بد رکے موقعہ پر ہو گئی تھی۔جس کے لیے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔
ولقد نصرکم اﷲ ببدر وانتم اذلۃ (آل عمران : ۱۲۴)