سمجھ میں روئے زمین پر کوئی اس امر کا منکر ہی نہیں۔ جبکہ یہ بات تو صاف کھل گیا کہوہ اردہ الٰہی ٹل جاتا ہے۔
پیشگوئی اور ارادہ الٰہی میں صرف یہ فرق ہوتا ہے کہ پیشگوئی کی اطلاع نبی کو دی جاتی ہے اور ارادۂ الٰہی پر کسی کو اطلاع نہیں ہوتی اور وہ مخفی رہتا ہے۔اگر وہی اردہ الٰہی نبی کی معرفت ظاہر کر دیا جاتا تو وہ پیشگوئی ہوتی۔اگر پیشگوئی نہیںٹل سکتی تو پھر ارادۂ الٰہی بھی صدقہ خیرات سے نہیں ٹل سکتا۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔چونکہ وعید کی پیشگوئیاں ٹل جاتی ہیں۔ اس لیے فرمایا:
وان یک صادقا یصبکم بعض الذی یعدکم (المومن : ۲۹)
اب اﷲ تعالیٰ خود گواہی دیتا ہے کہ بعض پیشگوئیاں آنحضرت ﷺکی بھی ٹل گئیں۔اگر میری کسی ایسی پیشگوئی پر ایسا اعتراض کیا جاتا ہے تو مجھے اس کا جواب دو۔ اگر اس امر میں میری تکذیب کرو گے تو میری نہیں بلکہ اﷲت عالیٰ کی تکذیب کرنے والے ٹھہرو گے۔ میں بڑے و ثوق سے کہتا ہوں کہ یہ کل اہل سنت جماعت اور کل دنیا کا مسلّم مسئلہ ہیکہ تضرع سے عذاب کا وعدہ ٹل جایا کرتا ہے۔کیا حضرت یونس ؑکی نظیر بھی تمہیں بھول گئی ہے؟ حضرت یونس کی قوم سے جو عذاب ٹل گیا تھا۔ اس کی وجہ کیا تھی؟ در منثور وغیرہ کو دیکھو اور بائبل میں یُونہ نبی کی کتاب موجود ہے۔ اس عذاب کا قطعی وعدہ تھا،مگر یونس ؑ کی قوم نے عذاب کے آثار دیکھ کر توبہ کی اور اس کی طرف رجوع کیا۔خدا تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔ اور عذاب ٹل گیا۔ ادھر حضرت یونس یوم مقررہ پر عذاب کے منتظر تھے۔لوگوں سے خبریں پوچھتے تھے ایک زمیندار سے پوچھا کہ نینوہ کا کیا حال ہے؟اس نے کہاکہ اچھا حال ہے تو حضرت یونس ؑ پر بہت غم طاری ہوا۔اور انہوں نے کہا
لن ارجع الیٰ قومی کذابا۔
یعنی میں اپنی قوم کی طرف کذاب کہلا کر نہیں جائوں گا۔ اب اس نظیر کے ہوتے ہوئے اور قرآن شریف کی زبردست شہادت کی موجودگی میں میری کسی ایسی پیشگوئی پر جو پہلے ہی سے شرطی تھی، اعتراض کرنا تقویٰ کے خلاف ہے۔متقی کی یہ شان نہیں کہ بغیر سوچے سمجھے منہ سے بات نکال دے اور تکذیب کو آمادہ ہو جاوے۔
حضرت یونس کا قصہ نہایت دردناک اور عبرت بخش ہے۔ اور وہ کتابوں میں لکھا ہوا ہے ۔اسے غور سے پڑھو۔ یہانتک کہ وہ دریا میں گرائے گئے اور مچھلی کے پیٹ میں گئے تب توبہ منظور ہوئی۔ یہ سزا اور عتاب حضرت یونس ؑ پر کیوں ہوا؟ اس لیے کہ انہیں نے خدا تعالیٰ کو قادر نہ سمجھا کہ وہ وعید کو ٹال دیتا ہے۔ پھر تم لوگ کیوں میرے متعلق جلدی کرتے ہو؟ اور میری تکذیب کے لیے ساری نبوتوں کو جھٹلاتے ہو؟
خونی مہدی کا عقیدہ
یاد رکھو خدا تعالیٰ کا نام غفور ہے۔ پھ رکیوں وہ رجوع کرنے والوںکو