جھوٹوں کا سب سے زیادہ دشمن ہے تم سب مل کر جو مجھ پر حملہ کرو۔ خدا تعالیٰ کا غضب اس سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے۔پھر اس کے غضب سے کون بچا سکتا ہے۔ وعیدی پیشگوئی ٹل سکتی ہے یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے اس میں یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ وعید کی پیشگوئیاں بعض پوری کر دے گا۔ کل نہیں کہا۔ اس میں حکمت کیا ہے؟ حکمت یہی ہے کہ وعید کی پیشگوئیاں مشروط ہوتی ہیں وہ توبہ،استغفار اور رجوع الی الحق سے ٹل بھی جایا کرتی ہیں۔ پیشگوئی دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک وعدہ کی جیسے فرمایا وعد اﷲ الذین امنو ا منکم (النور : ۵۶) اہل سنت مانتے ہیں کہ اس قسم کی پیشگوئیوں میں تخلف نہیں ہوتا۔ کیونکہ خد اتعالیٰ کریم ہے۔لیکن وعید کی پیشگوئیوں میں وہ ڈرا کز بخش بھی دیتا ہے اس لیے کہ وہ رحیم ہے۔ بڑا نادان اور اسلام سے دور پڑا ہوا ہے وہ شخص جو کہتا ہے وعید کی سب پیشگوئیاں پوری ہوتی ہیں۔ وہ قرآن کریم کو چھوڑتا ہے۔ اس لیے کہ قرآن کریم تو کہتا ہے۔ یصبکم بعض الذی یعدکم (المومن : ۲۹) افسوس ہے بہت سے لوگ مولوی کہلاتے ہیں مگر انہیں نہ قرآن کی خبر ہے نہ حدیث کی۔ نہ سنت انبیاء کی۔صرف بغض کی جھاگ ہوتی ہے اس لیے وہ دھوکہ دیتے ہیں۔ یاد رکھو الکریم اذا وعد وفی ۔ رحیم کا تقاضا یہی ہے کہ قابل سزا ٹھہرا کر معاف کر دیتا ہے اور یہ تو انسان کی بھی فطرت میں ہے کہ وہ معاف کر دیتا ہے۔ ایک مرتبہ میرے سامنے ایک شخص نے بناوٹی شہادت دی۔ اس پر جرم ثابت تھا۔ وہ مقدمہ ایک انگریز کے پاس تھا۔ اسے اتفاقاً چٹھی آگئی کہ کسی دور دراز جگہ پر اس کی تبدیلی ہو گئی ہے۔ وہ غمگین ہوا۔ جو مجرم تھا وہ بوڑھا آدمی تھا۔منشی سے کہا کہ یہ تو قید خانہ ہی میں مر جاوے گا اس نے بھی کہا کہ حضور بال بچہ دار ہے۔ اس پر وہ انگریز بولا کہ اب مثل مررتب ہو چکی ہے اب کیا ہو سکتا ہے۔ پھر کہا کہ اچھا اس مثل کو چاک کر دو۔ اب غور کر و کہ انگریز کو تو رحم آسکتا ہے۔ خدا تعالیٰ کو نہیں آتا؟ پھر اس بات پر بھی غور کرو کہ صدقہ اور خیرات کیوں جاری ہے اور ہر قوم میں اس کا رواج ہے۔ فطرتاً انسان مصیبت اور بلا کے وقت صدقہ دینا چاہتا ہے اور خیرات کرتا ہے اور کہتے ہیں کہ بکرے دو۔ کپڑے دو۔یہ دو وہ دو۔ اگر اس کیذریعہ سے ردّ بلا ہوتا ہے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر کے اتفاق سے یہ ثابت ہے اور میں یقینا جانتا ہوں کہ یہ صرف مسلمانوں ہی کا مذہب نہیں بلکہ یہدویوں، عیسائیوں اور ہندوجوں کا بھی یہ مذہب ہے۔ اور میری