میں داخل کرنے کے لیے جو راستہ کھولا گیا تھا اُسے ہی بُری نظر سے دیکھا اور اس کا کفر کیا۔
میں خد اتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں صادق ہوں
میں نے اپنی تحریروں کے ذریعہ پورے طور پر اس طریق کو پیش کیا ہے جو اسلام کو کامیاب اور دوسرے مذاہب پر غالب کرنے والا ہے۔ میرے رسائل امریکہ اور یورپ میں جاتے ہیں۔خد اتعالیٰ نے اس قوم کو جو فراست دی ہے انہوں نے اس خدا داد فراست سے اس امر کو سمجھ لیا ہے لیکن جب ایک مسلمان کے سامنے میں اسے پیش کرتا ہوں تو اسکے منہ میں جھاگ آجاتی ہے گویا وہ دیوانہ ہے یا قتل کرنا چاہتا ہے ؛حالانکہ قرآن شریف کی تعلیم تو یہی تھی
اد فع بالتی ھی احسن (حٰم السجدۃ : ۳۵)
یہ تعلیم اس لیے تھی کہ اگر دشمن بھی ہو تو وہ اس نرمی اور حسن سلوک سے دوست بن جاوے اور ان باتوں کو آرام اور سکون کے ساتھ سن لے۔ میں اﷲ جلشانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ وہ خوب جانتا ہیکہ میں مفتری نہیں،کذاب نہیں۔ اگر تم مجھے خدا تعالیٰ کی قسم پر بھی اور ان نشانات کو بھی جو اُس نے میری تائید میں ظاہر کئے ،دیکھ کر مجھے کذاب اور مفتری کہتے ہو تو پھر میں تمہیں خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ کسی ایسے مفتری کی نظیر پیش کرو کہ باوجود اس کے ہر روز افتراء اور کذب کے جو وہ اﷲ تعالیٰ پر کرے۔پھر اﷲ تعالیٰ اس کی تائید اور نصرت کرتا جاوے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اسے ہلاک کرے، مگر یہاں ا س کے بر خلاف معاملہ ہے۔ میں خد اتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں صادق ہوں۔اس کی طرف سے آیا ہوں۔مگر مجھ یکذاب اور مفتری کہا جاتاہے اور پھر اﷲ تعالیٰ ہر مقدمہ اور ہر بلا میں جو قوم میرے خلاف پید اکرتی ہے، مجھے نصرت دیتا ہے اور اس سے مجھے بچاتا ہے اور پھر ایسی نصرت کی کہ لاکھوں انسانوں کے دل میں میرے لیے محبت ڈال دی۔ میں اس پر اپنی سچائی کو حصر کرتا ہوں۔ اگر تم کسی ایسے مفتری کا نشان دے دو کہ وہ کذاب ہو اور اﷲ تعالیٰ پر اس نے افتراء کیا ہو اور پھر خد اتعالیٰ نے اس کی ایسی نصرتیں کی ہوں اور اس قدر عرصہ تک اُسے زندہ رکھ اہو۔ اور اس کی مرادوں کو پورا کیا ہو۔ دکائو۔
یقینا سمجھو کہ خدا تعالیٰ کے مرسل ان نشانات اور تائیدات سے شناخت کیے جاتے ہیں جو خدا تعالیٰ اُن کے لیے دکھاتا اور ان کی نصرت کرت اہے۔ میں اپنے قول میں سچا ہوں اور خدا تعالیٰ جو دلوں کو دیکھتاہے وہ میرے دل کے حالات سے واقف اور خبردار ہے۔ کیا تم اتنا بھی نہیں کہہ سکتے جو آل فرعون کے ایک آدمی نے کہا تھا۔
ان یک کاذ با فعلیہ کذبہ وان یک صادقا یصبکم بعض الذی یعدکم (المومن :۲۹)
کیا تم یہ یقین نہیں کرتے کہ اﷲ تعالیٰ