رہتی ہیں اور یہی وجہ ہے جو میں کہت اہوں کہ ہمارے نبی ﷺ زندہ نبی ہیں۔ اس لیے کہ آپؐ کی تعلیمات اور ہدایات ہمیشہ اپنے ثمرات دیتی رہتی ہیں اور آئندہ جب اسلام ترقی کرے گا تو ا سکی یہی راہ ہوگی نہ کوئی اور۔ پس جب اسلام کی اشاعت کے لیے کبھی تلوار نہیں اُٹھائی گئی تو اس وقت ایسا خیال بھی کرنا گناہ ہے، کیونکہ اب تو سب کے سب امن سے بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے مذہب کی اشاعت کے لیے کافی ذریعے اور سامان موجود ہیں۔
مجھے بڑے ہی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عیسائیوں اور دوسرے معترضین نے اسلام پر حملے کرتے وقت ہرگز ہرگز اصلیت پر غور نہیں کیا۔ وہ دیکھتے کہ اس وقت تمام مخالف اسلام اور مسلمانوں کے استیصال کے درپے تھے اور سب کے سب مل کر اس کے خلاف منصوبے کرتے اور مسلمانوں کو دکھ دیتے تھے۔ان دکھوں اور تکلیفوں کے مقابلہ میں اگر وہ اپنی جان نہ بچاتے تو کیا کرتے ۔قرآن شریف میں یہ آیت موجود ہے
اذن للذین یقاتلون با نہم ظلموا (الحج : ۴۰)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم اس وقت دیا گیا جبکہ مسلمانوں پر ظلم کی حد ہو گئی، تو انہیں مقابلہ کا حکم دیا گیا۔ اس وقت کی یہ اجازت تھی۔دوسرے وقت کے لیے یہ حکم نہ تھا؛ چنانچہ مسیح موعود کے لیے یہ نشان قرار دیا گیا۔ یضع الحرب۔ اب تو اس کی سچائی کا نشان ہے کہ وہ لڑائی نہ کرے گا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اس زمانہ میں مخالفوں نے بھی مذہبی لڑائیاں چھوڑ دیں۔ ہاں اس مقابلہ نے ایک اور صورت اور رنگ اختیار کر لیا ہے اور وہ یہ ہے کہ قلم سے کام لے کر اسلام پر اعتراض کر رہے ہیں۔ عیسائی ہیں کہ ان کا ایک ایک پرچہ پچاس پچاس ہزار نکلتا ہے اور ہر طرح کوشش کرتے ہیں کہ لوگ اسلام سے بیزار ہو جائیں۔ پس اس مقابلہ کے لیے ہمیں قلم سے کام لینا چاہیے۔ یا تیر چلانے چاہئیں؟ اس وقت تو اگر کوئی ایس اخیال کرے تو اس سے بڑھ کر احمق اور اسلام کا دشمن کون ہوگا؟ اس قسم کا نام لینا اسلام کو بدنام کرنا ہے یا کچھ اور؟ جب ہمارے مخالف اس قسم کی ﷺعی نہیں کرتے حالانکہ وہ حق پر نہیں تو پھر کیسا تعجب اور افسوس ہوگا کہ اگر ہم حق پر ہو کر تلوار کا نام لیں۔ اس وقت تم کسی کو تلوار دکھا کر کہو کہ مسلمان ہو جا ورنا قتل کر دوں گا۔ پھ ردیکھو نتیجہ کیا ہوگا؟ وہ پولیس میں گرفتار کراکے تلوار کا مزہ چھکا دے گا۔
یہ خیالات سراسر بیہودہ ہیں۔ ان کو سروں سے نکال دینا چاہیے۔ اب وقت آیا ہے کہ اسلام کا روشن اور درخشان چہرہ دکھایا جاوے۔ یہ وہ زمانہ ہے کہ تمام اعتراضوں کو دور کر دیا جاوے۔ اور جو اسلام کے نورانی چہرہ پر داغ لگایا گیا یہ اسے دور کر کے دکھایا جاوے۔ میں یہ بیھ افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ مسلمانوں کے لیے جو موقعہ خدا تعالیٰ نے دیا ہے اور عیسائی مذہب کے اسلام