۴؍جون ۱۹۰۴ء
نماز میں دعا ہے ایک شخص کے سوال پر فرمایا کہ :
نماز اصل میں دعا ہے۔نماز کا ایک ایک لفظ جو بولتا ہے وہ نشانہ دعا کا ہوتا ہے۔اگر نماز میں دل نہ لگے تو پھر عذاب کے لیے تیار رہے،کیونکہ جو شخص دعا نہیں کرتا وہ سوائے اس کے کہ ہلاکت کے نزدیک خود جاتا ہے اور کیا ہے۔ایک حاکم ہے جو بار بار اس امر کی ندا کرتا ہے کہ میں دکھیاروں کا دکھ اُٹھاتا ہوں۔مشکل والوں کی مشکل حل کرتا ہوں۔میں بہت رحم کرتا ہوں۔بیکسوں کی امداد کرتا ہوں۔لیکن ایک شخص جو کہ مشکل میں مبتلا ہے۔اس کے پاس سے گذرتا ہے اور اس کی ند اکی پروا نہیں کرتا نہ اپنی مشکل کا بیان کر کے طلبِ امداد کرتا ہے تو سوائے اس کے کہ وہ تباہ ہو اور کیا ہوگا۔یہی حال خدا تعالیٰ کا ہے کہ وہ تو ہر وقت انسنا کو آرام دینے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ کوئی اس سے درخواست کرے، قبولیت دعا کے لیے ضروری ہے کہ نافرمانی سے باز رہے اور دعا بڑے زور سے کرے۔کیونکہ پتھر پر پتھر زور سے پڑتا ہے تب آگ پید اہوتی ہے۔
الیٰ ربک یومئذ المستقر (القیامۃ : ۱۳)
اس آیت کو قیامت پر چسپاں کرنا غلطی ہے کیونکہ اس ن تو خدا کی طرف رجوع کرنا کسی کام نہ آویگا۔بلکہ یہ اس زمانہ کی حالت ہے کہ طاعون کے بارے میں خواہ کوئی حیلہ حوالہ کریں ہرگز کام نہ آوے گا۔آخر مستقر خدا تعا لیٰ ہی ہوگا۔لوگ جب اس کو مانیں گے۔تب وہ اس سے رہائی دے گا۔
این المفر (القیامۃ : ۱۱)
بھی اس پرچسپاں ہے۔کیونکہ دوسرے آفات میں تو کوئی نہ کوئی مفر ہوتا ہے،مگر طاعون میں کوئی مفر نہیں ہے۔صرف خدا تعالیٰ کی پناہ ہی کام آویگی۔
خدا تعالیٰ کی طرف ظلم کبھی منسوب نہیں ہوسکتا جو صادق ہوگا۔وہ ضرور اپنے صدق سے نفع پاوے گا۔یہ وہی دن ہیں جن کی نسبت کہا گیا ہے؎ٰ۔
ھذا یوم ینفع الصادقین صدقہم (المائدۃ : ۱۲۰)