بطور غذا کے۔
حضور ؑ نے فرمایا ۔ہاں۔
اس پر انہوں نے عرض کی کہ ان اخبار والوںنے تو لکھا ہے کہ احمدی جماعت کو بڑھانے کے لیے زیادہ بیویاں کرو۔
حضورؑ نے فرمایا کہ :
ایک حدیث میں یہ ہیکہ کثرت ازدواج سے اولاد بڑھائو تا کہ اُمت زیادہ ہو۔اصل بات یہ ہے کہ
انما الاعمال بالنیات۔
انسان کے ہر عمل کا مداراس کی نیت پر ہے۔کسی کے دل کو ثیر کر ہم نہیں دیکھ سکتے۔اگر کسی کی یہ نیت نہیں ہے کہ زیادہ بیویاں کر کے عورتوں کی لذات میں فنا ہو بلکہ یہ ہے کہ اس سے خادم دین پیدا ہوں تو کیا حرج ہے۔لیکن یہ امر بھی مشروط بشرائط بالا ہے۔مثلاً اگر ایک شخص کی چار بیویاں ہوں اور ہر سال ہر ایک سے ایک ایک اولاد ہو تو چار سال میں سولہ بچے ہوں گے، مگر بات یہ ہے کہ لوگ دوسرے پہلو کو ترک دیتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ صرف ایک پہلو پر ہی زور دیا جاوے؛ حالانکہ ہمارہ یہ منصب ہرگز نہیں ہے۔قرآن شریف میں متفرق طور پر تقویٰ کا ذکر آیا ہے، لیکن جہاں کہیں بیویوں کا ذکر ہے وہان ضرور ہی تقویٰ کا بھی ذکر ہے۔ادائیگی حقوق ایک بری ضروری شئے ہے اسی لیے عدل کی تاکید ہے۔اگر ایک شخص دیکھتا ہے کہ وہ حقوق کو ادا نہیں کر سکتا یا اس کی رجولیت کے قویٰ کمزور ہیں یا خطرہ ہو کہ کسی بیامری میں مبتلا ہو جائیتُسے چاہیے کہ دیدہ دانستہ اپنے آپ کو عذاب میں نہ الے۔تقویٰ یعنی شرعی ضرورت جو اپنے محل پر ہو اگر موجود ہو تو پہلی بیوی خود تجویز کرتی ہے کہ جاوند اور نکاح کر لے۔
آخری نصیحت ہامری یہی ہے کہ اسلام کو اپنی عیا شیوں کے لیے سپر نہ بنائو کہ آج ایک حسین عورت نظر آئی تو اُسے کر لیا۔کل اور نظر آئی تو اُسے کر لیا۔یہ تو گویا خد اکی گدی پر عورتون کو بٹھانا اور اُسے بھلادینا ہوا۔دین تو چاہتا ہیکہ کوئی زخم دل پر ایسا رہے جس سے ہر وقت خدا تعالیٰ یاد آوے ورنہ سلب ایمان کا خطرہ ہے۔اگر صحابہ کرامؓ عورتیں کرنے والے اور انہیں میں مصروف رہنے اولے ہوتے تو اپنے سر جنگوں میں کیوں کٹواتے؛ حالانکہ اُن کا یہ حال تھا کہ ایک کی انگلی کٹ گئی تو اُسے مخاطب ہو کے کہا کہ تو ایک انگلی ہی ہے اگر کٹ گئی تو کیا ہوا۔مگر جو شب و روز عیش و عشرت میں مستغرق ہے وہ کب ایسا دل لا سکت اہے۔آنحضرت ﷺ نمازوں میں اس قدر روتے اور قیام کرتے کہ آپؐ کے پائوں پر وَرم ہو جاتا۔صحابہؓ نے عرض کی کہ خدا تعالیٰ نے آپؐ کے تمام گناہ بخش دیئے ہیں پھر اس قدر مشقت اور رونے کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا کیا میں خدا تعالیٰ کا شکر گذار بندہ نہ بنوں۔؎ٰ