رہے اور وہ منزل مقصود تک اُسے پہنچادے جہاں خدا تعالیٰ نے سب کے حقوق رکھے ہیں وہاں نفس کا بھی حق رکھا ہے کہ وہ عبادات بجالاسکے۔
لوگوں کے نزدیک چوری زنا وغیرہ، ہی گناہ ہیں اور اُن کو یہ معلوم نہیں کہ استیفاء لذات میں مشغول ہونا بھی گناہ۔اگر ایک شخص اپنا اکثر حصہ وقت کا تو عیش و آرام میں بسر کرت اہے اور کسی وقت اُٹھ کر چار ٹکریں بھی مار لیتا ہے۔(یعنی نماز پڑھتا ہے) تو وہ نمرودی زندگی بسر کرتا ہے۔آنحضرت ﷺ کی ریاضت اور مشقت کو دیکھ کر خدا تعالیٰ نے فرماتا کہ کیا تو اس محنت میں مر جائے گا؛ حالانکہ ہم نے تیرے لیے بیویاں بھی حلال کی ہیں۔یہ خدا تعالیٰ نے آپؐ کو ایسے ہی فرمایا جیسے ماں اپنے بچے کو پڑھنے یادوسرے کا م میں مستغرق دیکھ کر صحت کے قیام کے لحاظ سے اُسے کھیلنے کودنے کی اجازت دیتی ہے۔خدا تعالیٰ کا یہ خطاب اسی غرض سے ہے کہ آپ تازہ دم ہوکر پھر دین کی خدمت میں مصروف ہوں۔اس سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ آپ شہوات کی طرف جھک جاویں۔ نادان معترض ایک پہلو کو تو دیکھتے ہیں اور دوسرے کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔پادریوں نے اس بات کی طرف کبھی غور نہیں کی کہ آنحضرت ﷺ کا حقیقی میلان کس طرف تھا اور رات دن آپؐ کس فکر میں رہتے تھے۔بہت سے ملا اور عام لوگ ان باریکیوں سے ناواقف ہیں۔اگر اُن کو کہا جاوے کہ تم شہوات کے تابع ہو تو جواب دیتے ہیں کہ کیا ہم حرام کرتے ہیں؟ شریعت نے ہمیں اجازت دی ہے تو ہم کرتے ہیں۔ان کو اس بات کا علم نہیں کہ بے محل استعمال سے حلال بھی حرام ہو جاتا ہے۔
ماخلقت الجن والانس الا لیعبدون (الذاریات : ۵۷)
سے ظاہر ہے کہ انسان صرف عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔پس اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے جس قدر چیز اُسے درکار ہے۔اگر اُس سے زیادہ لیتا ہے تو گو وہ شئے حلال ہی ہو مگر فضول ہونے کی وجہ سے اس کے لیے حرام ہو جاتی ہے۔جو انسان رات دن نفسانی لذات میں مصروف ہے وہ عبادت کا کیا حق ادا کر سکتا ہے۔مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک تلخ زندگی بسر کرے لیکن عیش و عشرت میں بسر کرنے سے تو وہ اس زندگی کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں کر سکتا ۔
ہمارے کلام کا مقصد یہ ہے کہ دونوں پہلوئوں کا لحاظ رکھا جاوے۔یہ نہیں کہ صرف لذات کے پہلو پر زور دیا جاوے اور تقویٰ کو بالکل ترک کر دیا جاوے۔اسلام نے جن کاموں اور باتوں کو مباح کہا ہے اس سے یہ غرض ہر گز نہیں ہے کہ رات دن اس میں مستغرق رہے۔صرف یہ ہے کہ بقدر ضرورت وقت پر اُن سے فائدہ اُٹھایا جاوے۔
اس مقام پر پھر وہی صاحب بولے کہ اس سے تو یہ نتیجہ نکلا کہ تعدّد ازواج بطو ردوا کے ہے نہ