تمام رات سجدہ اور قیام میں گذارتے ہیں۔اب دیکھو۔رات دن بیویوں میں غرق رہنے والا خدا تعالیٰ کے منشاء کے موافق رات کیسے عبادت میں کاٹ سکتا ہے۔وہ بیویاں کیا کرتا ہے گویا خدا کے لیے شریک پیدا کرتا ہے۔آنحضرت ﷺ کی نو بیویاں تھیں اور باوجود ان کے آپ ساری ساری رات خد اتعالیٰ کی عبادت میں گذارے تھے ۔ایک رات آپؐ کی باری عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس تھی۔کچھ حضہ رات کا گذرگیا تو حضرت عائشہؓ کی آنکھ کھلی۔دیکھ اکہ آپ موجود نہیں۔اُسے شبہ ہوا کہ شائد آپ کسی اور بیوی کے ہاں گئے ہوں اُس نے اُٹھ کر ہر ایک گھر میں تلاش کیا،مگر آپؐ نہ ملے۔آخر دیکھ اکہ آپؐ قبرستان میں ہیں اور سجدہ میں رو رہے ہیں۔اب دیکھو کہ آپؐ زندہ اور چہیتی بیوی کو چھور کر مردوں کی جگہ قبرستان میں گئے اور روتے رہے تو کیا آپؐ کی بیویان حظ نفس ای اتباعِ شہوت کی بنا پر ہوسکتی ہیں؟۔
غرضکہ جوب یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کا صال منشاء یہ ہے کہ تم پر شہوات غالب نہ آویں۔اور تقویٰ کی تکمیل کے لیے اگر ضرورت حقہ پیش آوے تو اور بیوی کر لو۔آنحضرت ﷺ کی تمتع دنیاوی کا یہ حال تھا کہ ایک ابار حضرت عمرؓ آپؐ سے ملنے گئے۔ایک لڑکا بھیج کر اجازت چاہی۔آنحضرت ﷺ ایک کھجور کی چٹائی پ رلیٹے ہوئے تھے۔جب حضرت عمرؓ اندر آئے تو آپؐ اُٹھ کر بیٹھ گئے۔حضرت عمرؓ نے دیکھ اکہ مکان سب خالی پڑا ہے اور کوئی زینت کا سامان اس میں نہیں ہے۔ایک کھونٹی پر تلوار لٹک رہی ہے یا وہ چٹائی ہے جس پر آپؐ لیٹے ہوئے تھے اور جس کے نشان اسی طرح آپؐ کی پُشت مبارک پر بنے ہوئے تھے۔حضرت عمرؓ اعن کو دیکھ کر ور پڑے۔آپؐ نے پوچھا۔اے عمرؓ ! تجھ کو کس چیز نے رلایا؟ عمرؓ نے عرض کی کہ کسریٰ اور قیصر تو تنعم کے اسباب رکھیں اور آپؐ جو خد اتعالیٰ کے رسول اور دو جہان کے بادشاہ ہیں اس حال میں رہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔اے عمرؓ مجھے دنیا سے کیا غرض ؟ میں تو اس مسافر کی طرح گذارہ کرتا ہوں جو اُونٹ پر سوار منزل مقصود کو جاتا ہو۔ریگستان کا راستہ ہو اور گرمی کی سخت شدت کی وجہ سے کوئی درخت دیکھ کر اس کے سایہ میں سستا لے اور جونہی کہ ذرا پسینہ خشک ہوا ہو وہ پھر چل پڑے۔جس قدر نبی اور رسول ہوئے سب نے دوسرے پہلو (آخرت) کو ہی مد نظر رکھا ہوا تھا۔
پس جاننا چاہیے کہ جو شخص شہوات کی اتباع سے زیادہ بیویاں کرتا ہے وہ مغزِ اسلام سے دور رہتا ہے۔ہر ایک دن جو چڑھتا ہے اور رات جو آتی ہے اگر وہ تلخی سے زندگی بسر نہیں کرت ااور روتاکم یا بالکل ہی نہیں روتا او ہنستا زیادہ ہے تو یاد رہے کہ وہ ہلاکت کا نشانہ ہے۔استیفاء لذت اگر حلال طو رپر ہو تو حرج نہیں۔جیسے ایک شخص ٹٹو پر سوار ہے اور راستہ میں اُسے نہاری وغیرہ اس لیے دیتاہے کہ اس کی طاقت قائم