زیادہ بیویوں کی اجازت سے یہ ہے کہ تم کو اپنے نفوس کو تقویٰ پر قائم رکھنے اور دوسرے اغراض مثلاً اولاد صالحہ کے حاصل کرنے اور خویش و اقارب کی نگہداشت اور ان کے حقوق کی بجا آوری سے ثواب حاصل ہو۔ اور اپنی اغراض کے لحاظ سے اختیار دیا گیا ہے کہ ایک دو تین چار عورتوں تک نکاح کر لو، لیکن اگر ان میں عدل نہ کر سکو تو پھر یہ فسق ہوگا۔اور بجائے ثواب کے عذاب حاصل کرو گے کہ ایک گناہ سے نفرت کی وجہ سے دوسرے گناہوں پر آمادہ ہوئے۔دل دکھانا بڑا گناہ ہے اور لڑکیوں کے تعلقات بڑے نازک ہوتے ہیں۔جب والدین اُن کو اپنے سے جدا اور دوسرے کے حوالہ کرتے ہیں،تو خیال کرو کہ کیا امیدیں اُن کے دلون میں ہوتی ہیں اور جن کا اندازہ انسان عاشرو ھن بالمعروف (النساء : ۲۰) کے حکم سے ہی کرسکتا ہے۔اگر انسان کا سلوک اپنی بیوی سے عمدہ ہو اور اسے ضرورتِ شرعی پیدا ہو جاوے تو اس کی بیوی اس کے دوسرے نکاحوں سے ناراض نہیں ہوتی۔ہم نے اپنے گھر میں کئی دفعہ دیکھا ہے کہ ہمارے نکاح والی پیشگوئی کے پورا ہونے کے لیے رورو کر دعائیں کرتی ہیں۔اصل بات یہ ہیکہ بیویوں کی ناراضگی کا باعث خاوند کی نفسانیت ہوا کرتی ہے اور اگر اُن کو اس بات کا علم ہو کہ ہمارا خاوند صحیح اغراض اور تقویٰ کے اصول پر دوسری بیوی کرنا چاہتا ہے تو پھر وہ کبھی ناراض نہیں ہوتیں۔فساد کی بنا تقویٰ کی خلاف ورزی ہوا کرتی ہے۔ خدا تعالیٰ کے قانون کو اس کے منشاء کے برخلاف ہرگز نہ برتنا چاہیے اور نہ اُس سے ایسا فائدہ اٹھانا چاہیے جس سے وہ صرف نفسانی جذبات کی ایک سپر بن جاوے۔یاد رکھو کہ ایسا کرنا معصیت ہے، خدا تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ شہوات کا تم پر غلبہ نہ ہو، بلکہ تمہاری غرض ہر ایک امر میں تقویٰ ہو۔اگر شریعت کو سپر بنا کر شہوات کی اتباع کے لیے بیویاں کی جاویں گی تو سوائے اس کے اور کیا نتیجہ ہوگا کہ دوسری قومیں اعتراض کریں کہ مسلمانوں کو بیویاں کرنے کے سوا اور کوئی کام ہی نہیں۔زنا کا نام ہی گناہ نہیںبلکہ شہوات کا کھلے طور پر دل میں پڑ جانا گناہ ہے۔دنیاوی تمتع کا حصہ انسانی زندگی میں بہت ہی کم ہونا چاہیے،تا کہ فلیضحکواقلیلا ولیبکواکثیرا۔ (التوبہ : ۸۲) یعنی ہنسور تھوڑا اور روئو بہت کا مصداق بنو، لیکن جس شخص کی دنیاوی تمتع کثرت سے ہیں اور رات دن بیویوں میں مصروف ہے۔اُس کو رقت ارو رونا کب نصیب ہوگا۔اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ ایک خیال کی تائید اور اتباع میں تمام سامان کرتے ہیںا رو اس طرح سے خدا تعالیٰ کے اصل منشاء سے دور جا پڑتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اگر چہ بعض اشیاء جائز تو کر دی ہیں،مگر اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ عمر ہی اس میں بسر کی جاوے۔خدا تعالیٰ تو اپنے بندوں کی صفت میں فرماتا ہے یبیتون لربھم سجداوقیاما (الفرقان : ۶۵) کہ وہ اپنے رب کے لیے