اﷲ تعالیٰ اُن سے راضی ہو جائے۔ دوست دوست سے راضی نہیں ہو سکتا جب تک اس کے لیے وفاداری ظاہر اور ثابت نہ ہو۔کسی کے دو خد متگار ہوں۔ایک وفادار اور مخلص ثابت ہو اور اپنے فرائض کو نہ رسم و رواج اور دبائو سے بلکہ پوری محبت اور اخلاص سے ادا کرے اور دوسرا ایسا ہو جو بے دلی اور رسمی طور پر کچھ کام کرے تو اُن میں سے مالک اسی پہلے پر راضی ہو گا اور اسی کی باتوں کو سنے گا اور اسی پر اعتبار کرے گا اور وفادار ہی کو پیار کرے گا۔ فیج اعوج کے زمانہ میں تعصب بڑھ گیا ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے من عاد ا ولیا لی فعادالی۔ ان لوگوں کو یہ خیال نہیں کہ ان کے تعصب نے ان کو خدا تعالیٰ سے بالکل دور کر دیا ہے۔ایک زمانہ آنیوالا ہے کہ جس قدر ہم لوگ ہیں وہ سب نہ ہوں گے۔رسمی نمازوں سے خدا تعالیٰ راضی نہیں ہوتا۔دنیا کے دوست بھی صرف الفاظ سے نہیں بنتے۔اخلاص کی ضرورت ہوتی ہے۔اسلام کا لفظ ہی مسلمان بناتے ہے۔اس کا مطلب یہی ہے کہ وفاداری اور اخلاص کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کی رضا اور حکموں پر گردن جھکائی جاوے۔یہ لقب کسی اور ملت کو نہیں دیا گیا۔اس اُمت پر یہ اﷲ تعالیٰ کا خاص فضل ہے۔اسلام جس بات کو چاہتا ہے وہ اسی جگہ سے اسلام کے ذریعہ سے حاصل ہو جاتا ہے۔ ولمن خاف مقام ربہ جنتان (الرحمٰن : ۴۷) خدا کے دیدار کے واسطے اسی جگہ سے حواس ملتے ہیں۔ من کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی۔ (بنی اسرائیل : ۳ ۷) جو یہاں خدا نہیں دیکھتا وہ وہاں بھی نہیں دیکھ سکے گا۔؎ٰ یکم جون ۱۹۰۴ء؁ (قبل از شام) دعا دعا کی مثال ایک چشمۂ شیریں کی طرح ہے جس پر مومن بیٹھا ہوا ہے۔وہ جب چاہے اس چشمہ سے اپنے آپ کو سیراب کر سکتا ہے ۔جس طرح ایک مچھلی بغیر پانی کے زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح مومن کا پانی دعا ہے کہ جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔اس دعا کا ٹھیک محل نماز ہے جس میں وہ راحت اور سرور مومن کو ملتا ہے کہ جس کے مقابل ایک عیّاش کا کامل درجہ کا سرور جو اُسے کسی بدمعاشی میں میسر آسکتا ہے۔ہیچ ہے۔بڑی بات جو دعا میں حاصل ہوتی ہے وہ قربِ الٰہی ہے۔دعا کے ذریعہ ہی انسان خدا تعالیٰ کے نزدیک ہو جاتا اور اسے اپنی طرف کھینچتا ہے۔جب مومن کی دعا میں پورا