ہمارا یہ مطلب تو نہیں کہ ان سب کو اس طرح چھوڑے کہ ان سے کوئی تعلق ہی نہ رکھے۔ایک طرف بیوی بیوائوں کی طرح ہو جائے اور بچے یتینوں کی طرح ہو جائیں۔قطع رحم ہو جائے بلکہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ بیوی بچوں کا پورا تعہد کرے۔اُن کی پرورش پورے طور سے کرے اور حقوق ادا کرے۔صلہ رحم کرے۔لیکن دل اُن میں اور اسباب دنیا ممیں نہ لگا دے۔دل با یار و ست بکار رہے؛ اگر چہ یہ بات بہت نازک ہے مگر یہی سچا انقطاع ہے جس کی مومن کو ضرورت ہے۔وقت پر خدا تعالیٰ کی طرف ایسا آجاوے کہ گویا وہ ان سے کواراہی تھا۔حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کی نسبت لکھتے ہیں کہ حضرت امام حسینؓ صاحب نے ایک دفعہ سوال کیا کہ آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔حضرت علیؓ نے فرمایا ۔ہاں۔حضرت امام حسین ؑ نے اس پر بڑ اتعجب کیا او رکہا کہ ایک دل میں دو محبتیں کس طرح جمع ہو سکتی ہیں۔پھر حضرت امام حسین ؑ نے کہا کہ وقت مقابلہ پر آپ کس سے محبت کریں گے۔فرمایا اﷲ سے۔غرض انقطاع اُن کے دلوں میں مخفی ہوت اہے اور وقت پر ان کی محبت صرف اﷲ تعالیٰ کے لیے رہ جاتی ہے۔مولی عبد الطیف صاحب نے عجیب نمومن انقطاع کا دکھلایا ۔جب اُنہیں گرفتار کرنے آئے تو لوگوں نے کہا کہ آپ گھر سے ہو آویں۔آپ نے فرمایا کہ میرا اُن سے کیا تعلق ہے۔خدا تعالیٰ سے میرا تعلق ہے سو اُس کا حکم آن پہنچا ہے۔میں جاتا ہوں۔ہر چیز کی اصلیت امتحان کے وقت ظاہر ہوتی ہے۔اصحابِ رسول اﷲ سب کچھ رکھتے تھے۔زن و فرزند اور اموال و اقارب سب کچھ اُن کے موجود تھے۔عزتیں اور کاروبار بھی رکھتے تھے،مگر اُنہوں نے اس طرح شہادت کو قبول کیا کہ گویا شیریں پھل انہیں میسر آگیا۔وہ اﷲ تعالیٰ کے لیے موت کو پسند کرتے ایک طرف تعہد حقوقِ عیال و اطفال میں کمال دکھیا اور دوسری طرف ایسا انقطاع کہ گویا وہ بالکل کورے تھے۔یہانتک کہ اﷲ تعالیٰ کے لیے موت کو پسند کرتے کبھی نامردی نہ دکھاتے بلکہ آگے ہی قدم رکھتے۔ایسی محبت سے وہ آنحضرت ﷺ کے قدموں میں جان دیتے تھے کہ بیوی بچوں کو بلا جیسی سمجھتے تھے۔اگر بیوی بچے مزاحم ہوں تو اُن کو دشمن سمجھتے تھے اور یہی معنی انقطاع کے ہیں۔آج کل کے رہبانوں کی طرح نہیں کہ بالکل بیوی بچے سے تعلق چھوڑدے اور سارے جہان سے ایک طرف ہو اجئے۔آسمان پر رہبانیت کے انقطاع کی کچھ قدر نہیں۔صوفی منقطعین بھی نمونے دکھاتے رہے ہیںکہ بازن و فرزندااور باخدا رہے ہیں۔پھر جب وقت آیا تو زن و فرزند کو چھوڑ کر اﷲ تعالیٰ کی طرف ہوگئے۔وہ لوگ اﷲ تعالیٰ کی طرف منقطع ہوت یہیں۔حضرت ابراہیم ؑ کا حال دیکھئے کیا انقطاع کا نمونہ ان سے ظاہر ہوا۔جو اپنے آپ کو اﷲ تعالیٰ کی راہ میں ضائع کرنا چاہت اہے اﷲ تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرتا اور اس کا نشنا دنای سے معدوم نہیں کرتا۔میرا مطلب یہ ہے کہ لوگ اﷲ تعالیٰ سے ایسا اخلاص ظاہر کریں اور اس قدر کوشش کریں کہ