اخلاص اور انقطاع پیدا ہو جاتا ہے۔تو خد اکو بیھ اس پر رحم آجاتا ہے اور اس کا متولی ہو جاتا ہے۔اگر انسان اپنی زندگی پر غور کرے تو الٰہی تولی کے بغیر انسنای زندگی قطعاً تلخ ہو جاتی ہے۔دیکھ لیجئے جب انسان حد بلوغت کو پہنچتا ہے اور اپنے نفع نقصان کو سمجھنے لگتا ہے تو نامرادیوں ناکامیابیوں اور قسام قسم کے مصائب کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔وہ اُن سے بچنے کیلئے طرح طرح کی کوششیں کرتا ہے۔دولت کے ذریعہ اپنے تعلق حکام کے ذریعہ، قسام قسم کے حیلہ و فریب کے ذریعہ وہ بچائو کے راہ نکالتا ہے،لیکن مشکل ہیکہوہ اس میں کامیاب ہو۔بعض وقت اس کی تلخ کامیوں کا انجام خود کشی ہو جاتی ہے۔اب اگر ان دنیاداروں کے غموم و ہموم اور تکالیف اک مقابلہ اہل اﷲ یا انبیاء کے مصائب کے ساتھ کیا جاوے تو انبیاء علیہم السلام کے مصائب بمقابل اول الذکر جماعت کے مصائب بالکل ہیچ ہیں لیکن یہ مصائب و شدائد اس پاک گروہ کو رنجیدہ یا محزون نہیں کرسکتے۔اُن کی خوشحالی اور سرور میں فرق نہیں آتا۔کیونکہ وہ اپنی دعائوں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی تولی میں پھر رہے ہیں۔
استقامت ایک معجزہ ہے
دیکھو اگر ایک شخص کا ایک حاکم سے تعلق ہواور مثلاً اس حاکم نے اسے اطمینان بھی دیا ہو کہ وہ اپنے مصائب کے وقت اس سے استعانت کر سکتا ہے تو ایسا شخص کسی ایسی تکلیھ کے وقت جس کی گرہ کشائی اس حاکم کے ہاتھ میں ہے عام لوگوں کے مقابل کم درجہ رنجیدہ اور غمناک ہوتا ہے تو پھر وہ مومن جس کا اس قسم کا بلکہ اس سے بھی زیادہ مضبوط تعلق احکم الحاکمین سے ہو۔وہ کب مصائب و شدائد کے وقت گھبراوئے گا۔انبیاء علیہم السلام پر جو مصیبتیں آتی ہیں اگر ان کا عشر عشیر بھی ان کے غیر پر وارد ہو تو اس میں زندگی کی طاقت باقی نہ رہے۔یہ لوگ جب دنیا میں بغرض اصلاح آتے ہیں تو اُن کی کل دنیا دشمن ہو جاتی ہے۔لاکھوں آدمی اُن کے خون کے پیاسے ہوتے ہیں لیکن یہ خطر ناک دشمن بھی اُن کے اطمینان میں خلل انداز نہیں ہوسکتے۔اگر ایک شخص کا ایک دشمن بھی ہو تو وہ کسی لمحہ بھی اس کے شر سے امن میں نہیں رہتا۔چہ ئائیکہ ملک کا ملک اُن کا دشمن ہو اور پھر یہ لوگ باامن زندگی بسر کریں۔ان تمام تلخ کامیوں کو ٹھنڈ ے دل سے برداشت کر لیں۔یہ برداشت ہی معجزہ و کرامت ہے۔رسول اکرم ﷺ کی استقامت اُن کے لاکھوں معجزوں سے بڑھ کر ایک معجزہ ہے۔کل قوم کا ایک طرف ہونا۔دولتق‘ سلطنت‘ دنیوی و جاہت، حسینہ جمیلہ بیویاں وغیرہ سب کچھ کے لالچ قوم کا اس شرط پر دینا کہ وہ اعلائے کلمۃ اﷲ لاالہ الا اﷲ سے رک جاویں۔لیکن ان سب کے مقابل جناب رسالمتآبؐ کا قبول کرنا اور فرمانا کہ میں اگر اپنے نفس سے کرتا تو یہ سب باتیں قبول کرتا۔میں تو حکمِ خدا کے ماتحت یہ سب کچھ کر رہا ہوں اور پھر دوسری طرھ سب تکالیف کی برداشت کرنا یہ ایک فوق الطاقت معجزہ ہے۔یہ سب طاقت اور برداشت اُس دعا کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے جو مومن کو خد اتعالیٰ نے عطا کی ہے۔