دنیادار نے کہا کہ میں آپ کو دیکھا کرتا تھا کہ آپ ہر رات تہجد پڑھتے ہیں۔میرے خیال میں بھی آیا کہ میں بھی تہجد پڑھوں۔سو آج رات میں تہجد پڑھنے اُٹھا اور یہ مصیبت مجھ پر آگئی۔اس نے جواب میں کہا کہ تجھے اس فضول سے کیا؟ پہلے چاہیے تھا کہ تو اپنے آپ کو صاف کرتا اور پھر تہجد کا ارادہ کرتا۔اﷲ تعالیٰ کی اجابت بھی متقین کے لیے ہے؛ چنانچہ قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔
انما یتقبل اﷲ من المتقین (المائدۃ : ۲۸)
در حقیقت جب تک انسان تقویٰ اختیار نہ کرے اس وقت تک اﷲ تعالیٰ اس کی طرف رجوع نہیں کرتا۔اﷲ تعالیٰ کی ذات میں بے نظیر صفات ہیں۔جو لوگ ا سکی راہ پر چلتے ہیں انہیں کو اس سے اطلاع ملتی ہے اور وہی اس سے مزہ پاتے ہیں۔خدا تعالیٰ سے رشتہ میں اس قدر شیرینی اور لذت ہوتی ہے کہ کوئی پھل ایسا شیریں نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ سے جلدی کوئی شخص خبر گیراں نہیں ہوسکتا ۔پھر جس کا خدا متولی ہو جاتا ہے، اس کو کئی فائدے ہوتے ہیں۔ایک تو وہ طمانیت کی زندگی میں داخل ہو جاتا ہے اور وہ راحت پاتا ہے جو کسی دنای دار کو نصیب ہونا نا ممکن ہے اور ایسی لذت پاتا ہے جو کہیں دوسری جگہ نصیب نہیں ہوسکتی۔اور اس کا متولی ایسا زبردست ثابت ہوتا ہے کہ ہر ایک مشکل سے بہت جلدی نکالتا اور خبر گیری کرتا ہے۔یہ لوگ بالکل بے ہودہ جھگڑوں میں پڑے ہوئے ہیں۔جھوٹی باتوں کی پیروی کرتے ہیں۔نماز اگر پڑھتے ہیں تو ریاء کیلئے پڑھتے ہیں۔وہ نماز جو آنحضرت ﷺ نے سکھلائی تھی وہ نہینں پڑھتے۔ یہ وہ نماز ہے جس کے پڑھنے سے انسنا ابدال میں داخل ہو جاتا ہے۔گناہ اس کے دور ہو جاتے ہیں۔دعائیں قبول ہوتی ہیں۔انسعان خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر لیتا ہے۔
احسب الناس ان یترکو اانیقولو اامنا وھم لا یفتنون (اعنکبوت : ۳)
لوگ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ صرف منہ سے کہہ دینا کہ ہم ایمان لے آئے ہیں،کافی ہے۔اور کوئی امتحانی مشکل پیش نہ آئے گی۔یہ بالکل غلط خیال ہے۔اﷲ تعالیٰ مومن پر ابتلاء بھیج کر امجحان کرتا ہے۔تمام راستبازوں سے خدا تعالٰٰ کی یہی سنت ہے وہ مصائب اور شدائد میں ضرور ڈالے جاتے ہیں۔
انقطاع الیاﷲ
مصائب بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تو وہ مصائب ہیں جو زیرِ سایۂ شریعت ہوتے ہیں۔انسان احکام کی تعمیل کے لیے انقطاع حاصل کرنا چاہتا ہے ارو اس طرف ہر ایک دنیاوی تعلق میں جو کشش ہے وہ اس کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔بیوی‘بچے، دوست دنیاداری کی رسوم کے تعلقات چاہت یہیں کہ ہماری کشش اس پر ایسی ہو کہ وہ ہماری طرف کھنچا چلا اآوے اور ہم میں ہی محو رہے۔تعمیلِ احکام کی کشش ان سے انقطاع کا تقاضا کرتی ہے۔ان سب کا چھوڑنا ایک موت کا سامنا ہوتا ہے۔