وعملو االصالحات لیستخلفنھم ھی الارض کما استخلف الذین من قبلھم (النور : ۵۶) اسی اُمت کے اب مومنین اور اعمال صالحہ بجالانے والوں سے خلافت کا وعدہ کیا گیا اسی طرح پر جس طرح بنی اسرائیل میں خلفاء کئے گئے تھے۔ یہاں بھی وہی کما کا لفظ موجود ہے۔ ایک طرف تو اس سلسلہ کو سلسلہ موسویہ کا مثیل ٹھہرایا۔ دوسری جگہ سلسلہ موسوی کی طرح خلفاء بنانے کا وعدہ کیا۔پھر کیا دونوں سلسلوں کا طبعی توافق ظاہر نہیں کرتا کہ اس اُمت میں خلفاء اسی رنگ کے قائم ہوں؟ ضرور کرتا ہے۔ بعض نادان اعتراض کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا نام تو مثیل موسیٰ رکھا ہے۔ مگر آخر میں آنے والے خلیفہ کا نام عیسیٰ رکھا ہے مثیلِ عیسیٰ نہیں رکھا اس لیے وہ آپ ہی آجائے گا۔ اس قسم کے اعتراض بظاہر دھوکا دہ ہیں اور ممکن ہے کہ وہ آدمی جو اصل حالات سے واقف نہیں۔ اس کو سنکر گھبرا جاوے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا نام تو مثیل موسیٰ ہی ہونا چاہیے تھا۔اس لیے کہ توریت کی کتاب استثناء میں مثیل موسیٰ ہی کہا گیا تھا۔ پس اگر آپ موسیا ہونے کا دعوی کرتے تو کتاب والے کہتے کہ ہمیں تو مثیل موسیٰ کا وعدہ دیا گیا ہے نہ کہ موسیٰ کا۔اس لیے ان کو توجہ دلانے کے واسطے وہی لفظ رکھا جو وہاں موجود تھا مگر یہاں اس کے خلاھ بات تھی۔ پہلی کتابوں سے اور انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ آئے گا۔ مگر جب یہ ثابت ہو چکا کہ وہ وفات پا چکے ہیں اور آچکے ہیں تو کوئی خیال بھی نہیں کرے گا کہ وہ زندہ ہو کر آجائیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات رہا وفات کا مسئلہ۔ وہ ایسا صاف ہے کہ اس پر زیادہ کہنے کی حاجت ہی نہیں۔ خدا تعالیٰ نے اپنے قوم سے یا عیسیٰ انی متوفیک (ال عمران : ۵۶) اور حضرت مسیح نے اپنے اقرار سے فلما تو فیتنی (المائدۃ : ۱۱۸) اور آنحضرت ﷺ نے اپنی رؤیت سے جبکہ معراج کی رات حضرت عیسیٰ کو حضرت یحییٰ ؑکے ساتھ اکٹھا دیکھا۔ ثابت کر دیا ہے کہ وہ وفات پا چکے ہیں ؛ ورنہ اگر وہ زندہ ہیں تو مردہ کے پاس رہنے کا کیا تعلق؟ اور اسکے علاوہ صحابہ کرامؓ نے آنحضرت ﷺ کی وفات پر پہلا اجماع یہی کیا کہ مسیح فوت ہو گیا۔ جیس اکہ بار ہا میں نے بیان کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے آپ کی وفات پر تلوار نکال لی اور کہا اگر کوئی آپؐ کو مردہ کہے گا تو اس کا سر اُڑادوں گا۔ اس پر حضرت ابو بکر ؓ