انسان بالکل آپؐ کے رنگ میں رنگین ہو جاوے۔ اسی لیے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
ان کنتن تحبون اﷲ فتبعونی یحببکم اﷲ ویغفر لکم ذنو بکم (ال عمران : ۳۲)
یعنی اگر تم اﷲ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔ اس اتباع کا نتیجہ یہ ہوگاکہ اﷲ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔ پس اب اس آیت سے صاف ثابت ہے کہ جبتک انسان کامل متبع آنحضرت ﷺ کا نہیں ہوتا وہ اﷲ تعالیٰ سے فیوض و برکات پا نہیں سکتا اور معرفت اور بصیرت جو اس کی گناہ آلود زندگی اور نفسانی جذبات کی آگ کو ٹھنڈا کر دے عطا نہیں ہوتی۔ ایسے لوگ ہیں علما ء امتی کے مفہوم کے اندر داخل ہیں۔
غرض ایک طرف تو آنحضرت ﷺ کو یہ فرمایا کہ انا اعطینک الکوثر اور دوسری طرف اس امت کو
کنتم خیر اُمۃ (ال عمران : ۱۱۱)
کہا تا کہ یہودیوں پر زد ہو۔ مگر میرے مخالف عجیب بات کہتے ہیں کہ یہ اُمت باوجود خیر الامت ہونے کے پھر شر الامت ہے۔ بنی اسرائیل میں تو عورتوں تک کو شرفِ مکالمہ الٰہیہ دیا گیا۔ مگر اس اُمت کے مرد بھی خواہ کیسے ہی متقی ہوں اور خد اتعالیٰ کی رضا جوئی میں مریں اور مجاہدہ کریں مگر ان کو حصہ نہیں دیا جائے گا اور یہی جواب ان کے لیے خدا کی طرف سے ہے کہ بس تمہارے لیے مہر لگ چکی۔ اس سے بڑھ کر اﷲ تعالیٰ کے حضور گستاخی اور اس پر سُو ء ظن اور آنحضرت ﷺ کی توہین اور اسلام کی ہتک کیا ہوگی۔ دوسری قوموں کو ملزم کرنے کے لیے یہی توزبردست اور بے مثل اَوزار ہمارے ہاتھ میں ہے اور اسی کو تم ہاتھ سے دیتے ہو۔
سلسلہ موسوی اور سلسلہ محمدیہ میں مشابہت
پھر ایک اور بات قابل غور ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے د و سلسلے قائم کئے تھے۔ پہلا سلسلہ سلسلہ موسوی تھا۔ دوسرا سلسلہ آنحضرت ﷺ کا سلسلہ یعنی محمدی سلسلہ۔ اور اس دوسرے سلسلہ کو مثیل ٹھہرایا۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کو بھی مثیلِ موسیٰ کہا گیاتھا۔ توریت کی کتاب استثناء میں یہی لکھا تا کہ تیرے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی اُٹھائو نگا اور قرآن شریف میں یہ فرمایا۔
انا ارسلنا لیکم رسولا شادا علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولا (المزمل : ۱۶)
یعنی بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا جو تم پر شاہد ہے۔ اسی طرح یہ رسول بھیجا گیا ہے جس طرح فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا گیا تھا (یعنی موسیٰ کی طرح) اب غور کرو کہ اس میں کما کا لفظ صاف طور پر ظاہر کرتا ہے کہ اس سلسلہ میں بھی کمالات و برکات کمی نہ ہوگی۔
پھر سورہ نور میں آیت استخلاف میں بھی یہی کما کا لفط آیا۔
وعد اﷲ الذین امنو امنکم