نے کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا۔
وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل (ال عمران : ۱۴۵)
یعنی آنحضرت ﷺ بھی ایک رسول ہیں اور آپﷺ سے پیشتر سب رسول وفات پا چکے ہیں۔ اب بتائو ۔ اس میں مسیح یا کسی اور کی کیا خصوصیت ہے؟ کیا حضرت ابو بکرؓ نے کسی کو بہار رکھ لیا تھا اور صحابہٰ کب گوارا کر سکتے تھے کہ وہ کسی اور کو تو زندہ تسلیم کریں اور آنحضرت ﷺ کے لیے یہ تجویز کریں کہ آپؐ نے وفات پائی ہے۔
غرض صحابہؓ کا اجماع بھی موت پر مہر کرتا ہے اور پھر عقل سلیم تو دور سے اس کو دھکے دیتی ہے۔ عام طور پر ہم آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ اگر عقل کے سامنے یہ پیش کریں کہ کانوں سے دیکھتے ہیں تو وہ کب اس کو مان لے گی۔ اسی طرح جب آدم سے لے کر ابتک آسمان پر زندہ اسی جسم کے ساتھ جانے کی کوئی نظیر نہیں ملتی تو ہم کیونکر مان لیں کہ مسیح زندہ اور اسی جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلا گیا۔ نظیر اگر کوئی ملتی ہے تو وہ ایلیاء کی آمد کی نظیر ہے جس کا وعدہ ملاکی نبی کی کتاب میں کیا گیا تھا اور اس کے آنے کا فیصلہ خود حضرت مسیح نے کیا کہ آنیوالا ایلیاء یہی یوحنا ہے۔ چاہو تو قبول کرو۔ اب اس نطیر سے معلوم ہوت اہے کہ دوبارہ آمد کے یہی معنے ہوتے ہیں اور ایسے الفاظ بطور استعارہ کے استعمال کیے جاتے ہیں۔اس کے بعد بھی اگر فیصلہ موت میں شک ہو تو پہلے ان دلائل کو توڑو اور پھر آنے والے کا جو فیصلہ حضرت عیسیٰ کی اپنی عدالت سے ہوا۔ اس کے خلاف کوئی فیصلہ پیش کرو۔ انہوں نے تو ثابت کیا کہ آنیوالا بروزی رنگ میں آیا کرتا ہے۔ تم کہتے ہو کہ وہ حقیقی مردے زندہ کر دیا کرتے تھے۔ پس اگر یہ سچ ہے تو کیوںانہوں نے ایلیاء کو زندہ نہ کر لیا تا کہ ان کی نبوت مشتبہ نہ ہوتی اور یہودیوں کی قوم تباہ نہ ہوتی۔ انہوں نے ملاکی نبی کی پیشگوئی ہی کا تو سوال کیا تھا۔ ان کی راہ میں روک اور پتھر وہی امر ہوا نہ کوئی اور۔ اس تاویل پر جوحضرت مسیح نے کی تھی وہ راضی نہ ہوئے اور انکار کر کے لعنتی ٹھہرے۔
بعض اوقات جب اس دلیل کا نقص ہمارے مخالف نہیں کر سکتے تو پھر کہہ دیتے ہیں کہ یہ کتابیں محرف مبدل ہیں’۔ میں کہتا ہوں کہ محّرف و مبدّل ہی سہی، لیکن تواتر قومی کو کیا کرو گے؟ یہودی اب تک موجود ہیں۔ ان سے پوچھ لو کہ کیا وہ اس امر کے منتطر نہیں ہیں کہ مسیح سے پہلے ایلیاء ضرور آئے گ اور عیسائی بھی اس کے قائل۔اگر وہ قائل نہ ہوتے تو ایلیاء کا بروز یوحنا کو کیوں تسلیم کرتے۔
پس یہودی اور عیسائی باوجود یکہ وہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ مگر اس امر پر بالکل متفق ہیں۔ ایسی صورت میں یہ امر بالکل صاف ہو جاتا ہے کہ یہ امور ہمارے زبردست مؤیّد ہین جیسے یحییٰ کا نام الیاس رکھا۔ اسی طرح اﷲ تعالیٰ نے میرا نام عیسیٰ رکھا۔ لیکن اگر کوئی کہے کہ اس نام میں حکمت کیا ہوئی؟