کو قائم کر کے بتا دیا تھا کہ خدا تعالیٰ کا فضل جس طرف وہ چاہتا ہے آتا ہے خوہ اسرائیلیوں میں ہو خواہ اسماعیلیوں میں۔اب تو یہودییوں کے ہاتھ میں نرا حسد۔اور آنحضرت ﷺ کا وجود عدم وجود معاذ اﷲ برابر ہو جائے گا۔ کیونکہ آپﷺ کے کمالات فیوض اور برکات کا سلسلہ بجائے آگے چلنے کے انہیں پر ختم ہو گیا۔ مجھے سخت تعجب آتا ہے کہ یہ لوگ میری مخالفت میں کچھ ایسے اندھے ہو رہے ہیں کہ وہ اس کے انجام اور نتائج سے بالکل بے خبر اور بے پروا ہو رہے ہی۔ کیا یہ سث نہیں ہے کہ اگر آپ کا سلسلہ آپ سے ہی شروع ہو کر آپ ہی پر ختم ہو گیا تو آپ ابتر ٹھہریں گے (معاذ اﷲ)حالانکہ اﷲ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔ ان شا نئک ھو الابتر (الکوثر : ۴) یعنی تجھے تو ہم نے کثرت یک ساتھ روحانی اولاد عطا کی ہے جو تجھے بے اولاد کہتا ہے وہی ابتر ہے۔ آنحضرت ﷺ کا جسمانی فرزند تو کوئی تھا نہیں’ اگر روحانی طور پر بھی آپ کی اولاد کوئی نہیں تو ایسا سخص خود بتائو کیا کہلاوے گا؟ میں تو اس کو سب سے بڑھ کے بے ایمانی اور کفر سمجھتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کی نسبت اس قسم کا خیال بھی کیا جاوے۔ انا اعطینک الکوثر (الکوثر : ۲) کسی دوسرے نبی کو نہیں کہا گیا۔ یہ تو آنحضرت ﷺ ہی کا خاصہ ہے۔ آپؐ کو اس قدر روحانی اولاد عطا کی گئی جس کا شمار بھی نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ قیامت تک یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ روحانی اولاد ہی کے ذریعہ آنحضرت ﷺ زندہ نبی ہین کیونکہ آپؐ کے انوار و برکات کا سلسلہ برابر جاری ہے اور جیسے اولاد میں والدین کے نقوش ہوتے ہیں اسی طرح روحانی اولاد میں آنحضرت ﷺ کے کمالات اور فیوض کے آثار اور نشانات موجود ہیں۔ الولد سر لابیہ۔ اُمت محمدیہ کا شرف صوفیوں نے اس حدیث علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل کو صحیح مانا ہے اور فی الحقیقت یہ صحیح ہے اور یہودیوں پر اسی سے مار پڑتی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس امت کو ایسا شرف عطا فرمایا کہ علماء امت کو انبیاء بنی اسرائیل کی مثل ٹھہرایا۔ علماء کے لفط سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔ عالم وہ ہوتا ہے جو اﷲ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ انما یخشی اﷲ من عبادہ العلمو ا (فاطر : ۲۹) یعنی بیشک جو لوگ اﷲ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اس کے بندوں میں سے وہی عالم ہیں۔ ان میں عب ودیت تامہ اور خشیت اﷲ اس حدتک پیدا ہوتی ہے کہ وہ خود اﷲ تعالیٰ سے ایک علم اور معرفت سیکھتے ہیں اور اسی سے فیض پاتے ہیں اور یہ مقام اور درجہ آنحضرتﷺ کی کامل اتباع اور آپ سے پوری محبت سے ملتا ہے یہانتک کہ