لیکن جس کے لیے یہ کہتے ہیں وہ تو پہلے ہی پیغمبر ہے۔ اس کو کونسا موقعہ ملا کہ آنحضرت ﷺ سے استفاضہ کرے۔ مسیح موعود کی نبوت پھر نبی کے لفظ پر بھی بحث کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دعویٰ نبوت ہے۔ میں کہتا ہوں یہ تو نری لفظی نزاع ہے نبی تو خبر دینے والے کو کہتے ہیں اب جس شخص کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کے مخاطبات اور مکالمات ہوتے ہیں۔ اس کا کیا نام رکھا جاوے گا۔ اوریہ نبوت تو آنحضرت ﷺ کے ہی طفیل اور اتباع کا نتیجہ ہے۔ میں اس کو کفر اور لعنت سمجھتا ہوں۔ اگر کوئی سخص یہ کہے کہ اب آنحضرت ﷺ سے استفاضہ کئے بغیر کوئی شخص نبوت کے چشمہ سے حصہ لیتا ہے اور مستقل نبوت کا مدعی ہے۔ یہ نرے دھوکے ہیں جو ان لوگوں کو لگے ہوئے ہیں اور بعض باوجود یکہ اس امر کو بخوبی سمجھتے ہیںلیکن جہلاء اور عوام کو بھڑکانے کے لیے ایسی باتیں کرتے ہیں تاکہ وہ میری کتابوں سے بیزار ہو جائیں اور انہیں پڑھ کر فائدہ نہ اُٹھا سکیں۔ مسیح علیہ السلام کے لیے تجویز کردہ خصوصیات کاش یہ لوگ سمجھتے کہ انہوں نے حضرت مسیح کے لیے جو خصوصیتیں تجویز کی ہیں ان کا نتیجہ کیا ہے۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ مس شیطان سے وہی پاک ہے اور روح القدس کے سایہ سے پیدا ہوا ہے۔ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر وہی گئے ہیں اور کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں۔ پھر وہی آسمان سے اُترے گا ارو قیامت کے قریب آخری قاضی وہی ہوں گے اور پھر یہ بھی خصوصیت کہ دوہزار برس ہونے کو آئے وہ اب تک آسمان پر ہیں اور کھانے پینے اور دیگر حوائج انسانی کے محتاج نہیں۔ آنحضرتﷺ تو بھوک سے پتھر پیٹ پر باندھ لیتے مگر ان کو اس کی بھی ضرورت نہیں۔ کوئی اثر زمانہ کا اس پر نہیں ہوا۔ آنحضرت ﷺ پر بیماری کا اثر ہو مسیح پر بالکل نہیں۔ آنحضرت ﷺ پر شیب اور پیرانہ سالی کے آثار ظاہر ہوں مگر مسیح ان سے بھی محفوظ۔ اب سوچو اور بتائو کہ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ یقینا یہی نتیجہ ہوگا کہ انہیں ساری دنای سے اگر اور نرالا مانا جاوے یا دوسرے الفاظ میں ان کو خد اہی کہا جاوے اس لیے کہ ایسی خصوصیتیں یقینا انہیں خدا بناتی ہیں اور عیسائی اس کو پیش کرتے ہیں۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے انوار و برکات جاری ہیں گرض اﷲ تعالیٰ نے حضرت مسیح کو یہودیوں کے ہاتھ سے نجات دے کر اُن کے الزاموں سے اُن کو بَری کیا تھا تا کہ اُن کو زک دے اور پھر اس سلسلہ محمدیہ