کی ہتک ِ شان کا موجب ہو۔ اس لیے یہ ضرور ہے کہ آنے والا مسیح اسی امت سے ہو اور وہ آنحضرت ﷺ سے برکت اور تعلیم پائے اور آپؐ ہی کے فیض سے روشنی حاصل کرے۔
اُمتی کی حقیقت
میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے مخالف اس موقعہ پر چالاکی سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ آنیوالا عیسیٰ اُمتی ہوگا۔ یہ مصیبت انہیں بخاری اور مسلم سے آئی کیونکہ اس میں امامکم منکم اور امکم منکم لکھاہوا ہے۔اس لیے حضرت عیسیٰ کو اُمتی بناتے ہیں مگر نہیں سمجھتے کہ اُمتی تو وہ ہوتا ہے جو آنحضرت ﷺ کی ہدایت کے بغیر گمراہ تھا جو رشد اور ہدایت اس نے پائی وہ آنحضرت ﷺ کی اتباع اور تعلیم سے پائی۔ مگرت یہ وہ تسلیم نہیں کرتے کہ حضرت عیسیٰ ؑپہلے گمراہ تھے اور اب بھی گمراہ ہیں’ جس وقت آئیں گے اس وقت آپ کی ہدایت اور تعلیم پر عمل کرنے سے وہ درجہ اور عزت انہیں ملے گی۔ پھر امامکم منکم کا مفہوم اس صورت میں تو درست نہ ٹھہرا۔
افسوس کا مقام ہے کہ ان لوگوں نے قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات پرغور کرنا چھوڑ دیا ہے اور جو َحکم ہو کر آیا تھا اسکا انکار کر دیا ۔ پھر ان کو سمجھ آوے تو کیونکر۔
اما مکم منکم صاف طور پر یہی ظاہر کرتا تھا کہ آنے والا امام تم میں سے ہوگا مگر یہ اس پر راضی نہیں ہوتے۔ یہ اُمت کو شر الامم اور یہودی بنا کر تو خوش ہو جاتے ہیں لیکن مسیح اور امام کا آنا اس اُمت سے تسلیم نہیں کرتے۔اب یا تو حضرت مسیح کی نسبت یہ اقرار کریں کہ وہ گمراہ ہیں (معاذ اﷲ ) جیسا کہ عیسائیوں نے اقرار کر لیا کہ وہ ملعون ہیں (نعوذ باﷲ) عیسائیوں نے لعنتی تو ان کو کہہ دیا مگر لعنت کے مفہوم سے بے خبر ہیں۔ اگر اس کو پہلے خبر ہوتی کہ لعنت کا یہ مفہوم ہے تو کبھی نہ کہتے۔ میں نے فتح مسیح کو لکھا کہ لعنت کا مفہوم تو یہ ہے کہ ملعون راندۂ درگاہ ہو اور خدا اس سے بیزار اور وہ خد اسے بیزار ہو اور شیطان سے جا ملے۔ اب بتائو کہ تم مسیح کے لیے یہ لفظ تجویز کرتے ہو؟ تو آخر وہ جواب نہ لکھ سکا۔ اور حقیقت میں اس کا جواب ہے ہی نہیں۔ انہوں نے غلطی سے لعنت کے مفہوم سے بے خبر رہ کر یہ لفظ ان کے لیے تراش لیا۔ اب جو خبر ہوئی تو فکر پڑی کہ کیا کیا جاوے۔؎ٰ
اسی طرح پر اگر یہ لوگ امتی کے مفہوم پر نظر ڈالیں اور غور کریں تو غلطی نہ کھائیں۔ کیونکہ اُمتی کے معنی یہی ہیں کہ وہ آنحضرت ﷺ کے فیضان و برکات سے مستفیض ہو۔ اور ترقی کرے۔